کشمیر میں بھارتی سیاح جوڑے کو گولی مار کر زخمی کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے زیر قبضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارتی سیاح جوڑا اس وقت زخمی ہو گیا جب ایک مبینہ بندوق بردار نے ہفتے کی رات فائرنگ کر دی۔ پولیس نے اس واقعے کی ذمہ داری بندوق برداروں پر عائد کی ہے۔ سیاحوں پر فائرنگ کا یہ مبینہ واقعہ ریاست جموں و کشمیر کے لیے بھارت کی مرکزی حکومت کے اعلان کردہ ووٹنگ شیڈول سے پہلے ہوا ہے۔

دونوں سیاحوں کا تعلق بھارت کے شہر جے پور سے بتایا گیا ہے جو ریاست جموں و کشمیر میں بھارت سے سیاحت کے لیے آئے تھے۔ سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے پولیس کے بیان کے مطابق دونوں سیاحوں کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا ہے اور فائرنگ کی جگہ کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ پولیس نے مزید کہا ہے کہ جے پور سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی گولی لگنے کے باوجود حالت مستحکم ہے اور خطرے کی کوئی بات نہیں۔

بھارت میں ان دنوں لوک سبھا کے انتخابی عمل کے لیے مرحلہ وار بنیادوں پر پولنگ جاری ہے۔ لوک سبھا کی کشمیر کی دو نشستوں کے لیے 20 مئی اور 25 مئی کو ووٹنگ ہونا قرار پایا ہے۔ سری نگر کی ایک سیٹ کے لیے 13 مئی کو ووٹنگ ہوئی تھی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی 1996 کے بعد پہلی بار کشمیر میں انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی ہے۔ اس نے اس کا جواز یہ بتایا ہے کہ وہ مقامی جماعتوں کے لیے الیکشن کا میدان خالی رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں نے بی جے پی کے کشمیر میں الیکشن نہ لڑنے کی وجہ اگست 2019 میں کشمیر کے لیے مودی سرکار کے کیے گئے اقدامات بتائی ہے کہ اگست 2019 کے اقدامات کے خلاف انہیں ان انتخابات میں ردعمل کا خدشہ ہے۔

واضح رہے جے پور سے تعلق رکھنے والے دو سیاحوں پر ہونے والے حملوں کے علاوہ شوپیاں ضلع کے ایک گاؤں میں بے جے پی کے رکن اعجاز احمد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے ریاست جموں و کشمیر میں سیاحوں پر آخری بڑا حملہ 2017 میں ہوا تھا۔ جس کے نتیجے میں بھارت سے تعلق رکھنے والے 8 ہندو یاتری ہلاک ہو گے تھے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے بندوق برداروں نے بھارتی سیاحوں (یاتریوں) کی بس کو نشانہ بنایا تھا۔ جس سے 8 ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں