غزہ جنگ بندی کے اگلے مذاکرات میں یورپی یونین اپنی نشست رکھنے کیلئے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کے دو رکن ممالک کی طرف سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے سے دو دن پہلے یورپی یونین اپنی صفوں میں تقسیم کے باوجود اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والے اگلے مذاکرات میں اپنے لیے ایک نشست محفوظ کرنے اور برسلز میں عرب حکام کی میزبانی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان موجودہ جنگ کے حوالے سے مضبوط موقف سامنے نہ آنے کے بعد یورپی یونین کو امید ہے کہ وہ صہیونی ریاست اور فلسطینیوں کے درمیان مستقل حل کے لیے کردار ادا کرے گی۔

اس تناظر میں خطے کے عرب ملکوں کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ پیر کو یورپی یونین کے وزرائے خارجہ سعودی عرب، قطر، مصر، امارات اور اردن کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ساتھ عرب ریاستوں کی لیگ کے سیکرٹری جنرل سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔ یورپی یونین، بین الاقوامی برادری کے ایک بڑے حصے کی طرح، دو ریاستی حل کی حمایت کرتی ہے تاکہ اس خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ تنازع ستر سال سے زیادہ عرصے سے حل طلب ہے۔

اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے اتوار کے روز جب فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ سے ملاقات کی تو کہا کہ صرف ایک مضبوط فلسطینی اتھارٹی ہی امن کو یقینی بنانے کی اہل ہے۔ فلسطینی وزیر اعظم نے فلسطینیوں کے لیے ڈونرز کانفرنس کے موقع پر برسلز کا دورہ کیا۔

جرمنی جیسے ملکوں کے درمیان ان اختلافات پر قابو پانا تقریباً ناممکن ہے جو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو نقصان نہ پہنچانے کا خواہاں ہے۔ دوسری طرف سپین نے آئرلینڈ کے ساتھ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ناروے کے ساتھ یورپی یونین کے ان دو رکن ملکوں نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ 28 مئی سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کر لیں گے۔ ہسپانوی وزیر خارجہ نے اتوار کو کہا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنا فلسطینی عوام کے لیے انصاف کا حصول اور اسرائیل کی سلامتی کی بہترین ضمانت ہے۔ دیگر یورپی ملکوں نے فلسطین کو تسلیم کرنے کو قبل از وقت قرار دیا۔

ان تقسیموں نے ہی یورپی یونین کے ستائیس ممالک کو مشترکہ بیانات اپنانے سے روکا۔ دسمبر اور فروری میں یورپی سربراہی اجلاسوں کے دوران اس حوالے سے کوئی متن منظور نہیں کیا جا سکا۔ تاہم اب مستقبل میں قائم ہونے والے امن کی توقع میں یورپی یونین نے کچھ بنیادی اصولوں پر مبنی حکمت عملی تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس حکمت عملی میں حماس کی غزۃ میں واپسی کو مسترد کرنا بھی شامل ہے۔ یونین حماس کو غزہ کی پٹی میں "دہشت گرد تنظیم" کے طور پر دیکھتی ہے۔ حماس نے 2007 سے فلسطینی اتھارٹی کو بے دخل کرکے غزہ کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔ یورپی یونین فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنا ضروری سمجھتی ہے تاہم فلسطینی اتھارٹی فلسطینیوں میں زیادہ مقبول نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں