امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کا ایک جملہ ان پر بھاری ثابت ہوا اور اس جملے پر انہیں صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا سائٹس جان کربی کے کلپس سے بھری پڑی ہیں، جن میں امریکی صحافیوں کے سوالات ہیں۔ لوگ ان سے پوچھ رہے ہیں کہ اسرائیل نے کون سی ’’سرخ لکیریں‘‘ عبور نہیں کیں؟۔
غزہ کے جنوبی شہر رفح میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کے بارے میں جب جان کربی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ رفح میں اسرائیلی کارروائی صدر کی مقرر کردہ ’ریڈ لائن‘ کی خلاف ورزی نہیں‘۔
CBS News' @edokeefe asks at White House press briefing about Israel's deadly explosion in Rafah: “The whole area is densely populated. How does this not violate the red line that the president laid out?”
— CBS News (@CBSNews) May 28, 2024
John Kirby, WH National Security Council spokesperson: “As I said, we don’t… pic.twitter.com/prshMWC7yW
ایک ویڈیو میں صحافی ایڈ او کیف امریکی قومی سلامتی کے مشیرسے اسرائیلی حملے کے بارے میں پوچھا کہ ’اتوار کی رات رفح کے مغرب میں المواصی میں السلام کیمپ کو نشانہ بنایا حالانکہ پورا علاقہ گنجان آباد ہے تو یہ بائیڈن کے ذریعہ ترتیب دی گئی ریڈ لائن کی خلاف ورزی کیسے نہیں ہوئی‘‘۔
"ہم نے یہ نہیں دیکھا"
قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے جواب دیا کہ "جیسا کہ میں نے کہا ہم رفح شہر میں اسرائیل کی وسیع زمینی کارروائی نہیں دیکھنا چاہتے اور ہم نے ابھی تک ایسی کوئی کارروائی نہیں دیکھی‘‘۔
صحافی نے مزید پوچھا کہ "اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی کو تبدیل کرنے کے بارے میں سوچنے سے پہلے بائیڈن کوفلسطینیوں کی مزید کتنی جلی ہوئی لاشیں دیکھنا ہوں گی؟"۔
’العربیہ‘ کے واشنگٹن آفس کی ڈائریکٹر نادیہ البلبیسی نے جان کربی سے ان محفوظ علاقوں کے بارے میں پوچھا جہاں بمباری کی گئی۔
کربی کے پاس جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا"۔ انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ اتوار کو ہوا وہ خوفناک اور افسوسناک تھا۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ رفح اور اس کے اطراف میں پناہ لینے کی کوشش کرنے والے بے گناہوں کی حفاظت کے لیے کافی کچھ نہیں کیا گیا۔ ان جگہوں کی تصدیق نہیں کر سکتا جہاں شہری گئے تھے اور نہ ہی مجھے معلوم ہے کہ آیا وہ سب اسرائیلی فورسز کے قائم کردہ ٹینٹ کمپلیکس میں گئے تھے یا کہیں اور‘‘۔
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ علاقے جنہیں پہلے محفوظ قرار دیا گیا تھا "اب بھی خطرناک ہیں"۔
"پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں"
قبل ازیں جان کربی کی جانب سےکہا گیا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن ہفتے کے آخر میں رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ پر بمباری کے بعد اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
لیکن انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ واشنگٹن فلسطینی شہریوں کے مصائب پر "آنکھیں بند نہیں کرتا"۔
انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اس بات پر یقین نہیں رکھتی کہ رفح میں اسرائیل کی کارروائیاں ایک بڑے پیمانے پر آپریشن کے مترادف ہیں جو بائیڈن کی طرف سے شناخت کردہ "سرخ لکیروں" کو عبور کرنے کے مترادف قرار دی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ ’’اتوار کو ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے‘‘۔
خیال رہے کہ رفح میں ایک خیمہ بستی پر اسرائیل نے جمعہ کے روز بدترین بمباری کی جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت 45 فلسطینی لقمہ اجل بن گئے تھے۔ بیشتر فلسطینی خیموں کو لگنے والی آگ کی وجہ سے جھلس کر جاں بحق ہوئے۔
اتوار کی رات اسرائیل نے رفح میں المواصی کیمپ پرایسا ہی حملہ کیا جس میں 20 بے گھر افراد کی جانیں گئیں۔