سویڈن:جرائم کردہ گروہ ایران کے ہتھےچڑھ گئے،موساد کی مدد سے سویڈش انٹیلیجنس کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سویڈن نے اپنے جرائم پیشہ گروہوں کے ایران کے ہاتھوں استعمال ہونے کی اطلاع دی ہے۔ یہ اطلاع سویڈش انٹیلی جنس نے ان واقعات کے بعد دی ہے جن میں سٹاک ہوم میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے اور سفارت خانے کے احاطے میں ایک گرینیڈ بھی ملا ہے۔

تاہم سویڈش انٹیلی جنس نے اسرائیلی سفارت خانے کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے تین ماہ بعد یہ انکشاف کیا ہے۔ اس میں کلیدی کردار موساد کی رپورٹس کا ہے ۔سویڈش انکشاف کے مطابق اس کے جرائم پیش گروہوں میں بچے بھی شامل ہیں۔ جو سویڈن میں اسرائیل اور دوسروں کے خلاف ' پراکسی ' کے طور پر کام کرتے ہیں۔

سویڈش انٹیلی جنس نے یہ رپورٹ دے کر اپنے ہاں جرائم کی دنیا کو ایک منظم نیٹ ورک اور مافیا کے سے انداز میں متعارف کرایا ہے۔ سویڈن کے علاوہ دوسرے یورپی ملکوں میں بھی اسرائیل کی غزہ جنگ کے حوالے سے احتجاج جاری ہے۔ اسی طرح امریکہ میں بھی یہ احتجاج طلبہ اور نوجوانوں میں بطور خاص زیادہ ہے مگر اس طرح کا انکشاف ابھی صرف سویڈن نے اپنے شہریوں کے حوالے سے کیا ہے۔ کسی دوسرے نے نہیں کیا ہے۔

سویڈش انٹیلی جنس ' ساپو' کے مطابق ایران سویڈن میں دوسرے ملکوں اور دوسرے گروہوں کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اس کے لیے اس طرح کے جرائم پیش گروہ کام آتے ہیں۔ جنہیں سویڈن اپنے ہاں ایک خطرہ محسوس کرتا ہے۔ 'ساپو' کے مطابق 'یہ گروہ عام طور پر اسرائیلی اور یہودی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔ '

واضح رہے سویڈن میں اسرائیلیوں کے لیے یہ خطرے والی صورت حال سات اکتوبر 2023 کے بعد سے دیکھنے میں آرہی ہے۔ تب سے اب تک اس طرح کے واقعات میں اسرائیل کو نشانہ بنانے کے واقعات میں ڈرامائی اضافہ ہے۔

ایران پر یورپی ملکوں میں تشدد کا الزام پہلے بھی لگتا رہا ہےتاکہ ایرانی رجیم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبا سکے۔ لیکن ' ساپو ' کے مطابق ' یہ ایک علاقائی تصادم ہے جو اب پوری دنیا میں پھیلنے لگا ہے۔ اس تصادم کی فضا نے سویڈن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔' پریس کانفرنس میں بتایا گیا ہے کہ سویڈن اس صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے اور سویڈش کے جرائم پیش عناصر کو کنٹرول کر رہا ہے جو بم چلانے اور فائرنگ ایسے واقعات میں پورے ملک میں ملوث دیکھے گئے ہیں۔

اس بارے میں سویڈش پولیس کے مرکزی نائب ہمپس نیگارڈز نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا ' سویڈن کے جرائم پیش گروہوں کا تشدد بنیادی طور پر منشیات کے دھندے سے متعلق ہے۔ لیکن اب اس کی شکل بدل رہی ہے جو سویڈن کے لیے پریشان کن ہے۔ اس جرائم کی سویڈش دنیا میں کم عمر سویڈش شہری بھی ملوث ہونے لگے ہیں اور یہ تیزی سے ہو رہا ہے۔

واضح رہے 15 سال سے کم عمر کے بچوں کو جیلوں میں نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔ اس لیے وہ تیزی سے جرائم کی دنیا میں جا رہے ہیں۔ یہ سویڈش شہری ایران کے بھی کام آ رہے ہیں۔

سویڈن کے اخبار ڈی این نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کی دستاویزات کی مدد سے رپورٹ کیا ہے کہ سویڈش جرائم پیشہ گروہ ' فاکسٹروٹ' کے سربراہ اور اس کے مقابلے کے گینگسٹر کو ایران نے ہی بھرتی کیا تھا۔ اخبار کی رپورٹ میں بنیاد اسرائیلی موساد کی فراہم کردہ دستاویزات پر ہے۔

اسرائیلی اخبار 'یروشلم پوسٹ' نے بھی جمعرات کے روز شائع کیا ہے کہ موساد کا خیال ہے کہ برسلز میں اسرائیلی سفارت خانے پر حالیہ گرینیڈ حملے میں ایران کا ہاتھ ہے۔ اسی طرح کی صورت حال کے بارے میں سویڈش وزیر انصاف سے پریس کانفرنس میں سوال کیا گیا کہ یہ رپورٹس تو موساد کی فراہم کردہ دستاویزات پر مبنی ہیں، اس پر وزیر انصاف نے جواب دیتے ہوئے کہا ' میں اپنے حکام کے پاس موجود معلومات کی وجہ سے خود کو بہت پر اعتماد محسوس کرتا ہوں۔ ' تاہم انہوں نے موساد کی تیار کردہ دستاویزات کے بارے میں تبصرے سے گریز کیا۔

ان کا کہنا تھا میں سمجھتا ہوں یہ معلومات سویڈش لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہوں گی۔ مگر ہم سویڈن کے ہر شہری کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے خوب محنت کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں