مصری ورکر کو اپنے باس کی توند کا مذاق اڑانا مہنگا پڑ گیا

خاتون نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کردہ ویڈیو میں افسر کی بڑھی ہوئی توند کا ٹَھٹّھا اڑایا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر میں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر ایک مضحکہ خیز واقعے کی گونج ہے۔ ایک کمپنی نے اپنے ملازم کو اس کی ایک ویڈیو کی وجہ سے تنخواہ میں کٹوتی کی سزا دے ڈالی ہے۔ اس ویڈیو میں ملازم نے اپنے مینیجر کی "توند" کا مذاق اڑایا تھا۔

کٹوتی کی رقم

مریم حلمی نامی لڑکی نے اپنے فیس بک پیج پر اپنی تنخواہ سے 3500 پاؤنڈ کی کٹوتی کا لیٹر شائع کیا اور لیٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کام میں تاخیر یا غفلت کی وجہ سے ہر کسی کی تنخواہ سے کٹوتی کی جاتی ہے لیکن یہ کٹوتی ایک اور وجہ سے کی گئی ہے۔ مریم نے تنخواہ میں کٹوتی کی تصویر اور اس کی کٹوتی کی وجہ بھی شیئر کی۔

بڑھی ہوئی توند

کٹوتی کے فیصلے کا متن کچھ یوں تھا: "محترم مریم حلمی، آپ کا شکریہ۔ ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کی اس ماہ تنخواہ میں سے 3500 پاؤنڈ کاٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بنا پر کیا گیا ہے جو آپ نے اپنے باس کی توند کی ویڈیو بنائی تھی۔ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پھولے اور بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ یہ تصویر کمپنی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں آپ کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ بغیر کسی استثنی کے کمپنی کے تمام ملازمین کو بہترین تصاویر میں دکھائیں۔

لیٹر میں مزید کہا گیا کہ ہم آپ کی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آپ نے ہمارے ساتھ اپنے کام کے آغاز کے بعد پہلی بار کوئی غلطی کی ہے۔ ہم مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ کمپنی کا مثبت امیج اور اس کی ساکھ کو بڑھانے میں مدد مل سکے۔

ملازمہ کے متعلق معلومات

ویب سائٹ ’’اعلام ڈاٹ کام‘‘نے لڑکی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ مریم حلمی نے 2021 میں اسکندریہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف فائن آرٹس سے گریجویشن کیا اور فوٹو گرافی اور مونٹیج کے شعبے سے اپنی محبت کے نتیجے میں اسی شعبے میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے ایک کمپنی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں نوکری مل گئی اور وہ اسے قبول کر کے حیران رہ گئی۔ کمپنی نے اسے پروگرامنگ کے شعبے میں کام کرنے کی ہدایت کی اور پھر اسے میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں منتقل کر دیا گیا۔

ویڈیو پسند کئے جانے پر حیرانی

کمپنی کی ملازمہ مریم حلمی نے کہا کہ اپنے کام کے پورے عرصے میں اس نے کوئی غلطی نہیں کی۔ کمپنی اچھے اور خوبصورت انداز میں تربیت فراہم کرنے والے انجینئر کی تصاویر پر انحصار کرتی ہے۔ جھگڑے اور میری تنخواہ میں کٹوتی کی وجہ یہ بنی کہ ویڈیو میں نظر آنے والا مینجر اپنی شبیہ اور ظاہری شکل سے پریشان تھا کیونکہ تصویر میں اس کی توند بڑھی ہوئی نظر آرہی تھی۔

مریم حلمی نے مزید کہا کہ اس نے اپنے فون پر تصویر اور ویڈیو پوسٹ کی اور پھر اس کا فون کا چارج ختم ہو گیا تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر میں لائکس اور شیئرز کی تعداد سے حیران رہ گئی۔ مریم نے کہا مجھے توقع نہیں تھی کہ ایسا ہوگا۔ مریم نے وعدہ کیا کہ وہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں