میٹا پلیٹ فارمز کے ایک سابق انجینیر نے غزہ میں جنگ سے متعلق مواد کو ہینڈل کرنے میں کمپنی پر تعصب کا الزام لگاتے ہوئے ایک مقدمے میں الزام لگایا ہے کہ کمپنی نے اسے اس لیے برطرف کیا کیونکہ اس نے ان غلطیوں کو ٹھیک کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے انسٹاگرام پر فلسطینی پوسٹس کو بلاک کیا گیا۔
ایک فلسطینی نژاد امریکی انجینیر فراس حمد جو 2021ء سے میٹا میں مشین لرننگ ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے کیلیفورنیا کی ایک عدالت میں سوشل میڈیا کمپنی کے خلاف امتیازی سلوک اور قانونی بنیادوں کے بغیر اپنی سروس ختم کرنے اور دیگر خلاف ورزیوں کے الزام میں مقدمہ دائر کیا۔
مقدمے میں حمد نے ’میٹا‘ پر فلسطینیوں کے خلاف تعصب کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے غزہ میں رشتہ داروں کی موت کے حوالے سے ملازمین کے اندرونی رابطوں کو حذف کر دیا اور فلسطینی پرچم کی علامتی تصاویر کے استعمال کی تحقیقات کیں۔
قانونی چارہ جوئی میں کہا گیا ہے کہ کمپنی نے ایسے ملازمین کے ساتھ ایسی تحقیقات نہیں کی جنہوں نے اسی طرح کے سیاق و سباق میں اسرائیلی یا یوکرینی پرچم کی تاثراتی تصاویر پوسٹ کیں۔
میٹا نے ابھی تک حمد کے الزامات پر تبصرہ کرنے کے لیے خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔
غزہ میں تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا۔ اس حملے میں اسرائیلی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1,200 افراد مارے گئے اور 250 سے زیادہ یرغمال بنائے گئے۔ اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر جنگ شروع کی۔ فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اب تک 36,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہوا۔
پچھلے سال جنگ شروع ہونے کے بعد سے’فیس بک‘ کی مالک کمپنی کو الزامات کا سامنا ہے کہ وہ جنگ کے دوران رہنے والے فلسطینیوں کی حمایت کے اظہار کو دباتی ہے۔
اس سال تقریباً 200 میٹا ملازمین نے ’سی ای او‘ مارک زکربرگ اور دیگر رہ نماؤں کو لکھے کھلے خط میں اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا۔
حمد نے کہا کہ ان کی برطرفی کمپنی کے پلیٹ فارمز کے ساتھ سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہنگامی اقدام سے متعلق دسمبر میں ہونے والے ایک واقعے کی وجہ سے دکھائی دیتی ہے۔