نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری:فوجداری عدالت کے خلاف امریکی سینٹ کی کوشش فی الحال بےنتیجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے ریپبلیکنز کی اکثریت رکھنے والی ایوان نمائندگان میں اگرچہ پچھلے ہفتے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بارے میں پابندیاں لگانے کے لیے قانون سازی کی منظوری دی گئی تھی کہ فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوو گیلنٹ کی جنگی جرائم کی بنیاد پر ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے کہا ہے۔

لیکن سینٹ میں پہنچنے کے بعد یہ معاملہ گفتگو سے آگے نہیں بڑھ سکا اور فی الحال عملاً بےنتیجہ رہ گیا ہے۔ اس سے متعلق دو مختلف ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈیموکریٹس کے سینیئر سینیٹروں اور ری پبلیکنز کے سینیٹروں کے درمیان فوجداری عدالت پر ممکنہ پابندیوں کے حؤالے سے گفتگو ہوتی رہی مگر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

جبکہ سینٹ کی 'فارن ریلیشنز کمیٹی' کے سربراہ بین کارڈن اور ری پبلکینز سینیٹر جیمز ای ریش نے اس موضوع پر کوئی گفتگو کی نہ منصوبہ بندی کہ اسے کیسے آگے برھایا جائے۔

ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ' بین کارڈن ابھی بھی ری پبلیکنز کے ان سینیٹرز کے ساتھ بھی گفتگو جاری رکھیں گے جو 'فارن ریلیشنز کمیٹی' کے رکن نہیں ہیں۔ تاکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیلی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی باتوں کا جواب دیا جا سکے۔۔

ان کے مطابق 'ہو سکتا ہے کہ کانگریس سے منظوری سے پہلے ہی یہ معاملہ تباہی سے دوچار ہو جائے۔ کیونکہ فریقین کے درمیان سینیٹ میں معاملہ طے نہ پاسکنے کے باعث پہلے ہی ختم ہوجائے۔ٓ'

اس بارے میں ایک ویب سائٹ نے اس بات کو نوٹ کیا ہے 'ریپبلیکنز فوجداری عدالت کے خلاف پابندیاں لگانے کے معاملے کو محض اس لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اس معاملے پر ڈیموکریٹس کے درمیان پائی جانے والی باہمی تفریق کو نمایاں کر سکیں۔'

حمایت اور تشویش کے درمیان میں

بعض ڈیموکریٹس سینیٹرز نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے کی حمایت کی ہے لیکن بعض دوسرے اس بارے میں تشویش کا شکار ہیں کہ ان پابندیوں کے باعث امریکہ اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے درمیان تعلقات میں خرابی آسکتی ہے۔

جبکہ قانون سازوں نے اس پر بھی بات کی ہے کہ ہمارے پاس فوجداری عدالت کو ردعمل دینے کے لیے دوسری آپشنز بھی موجود ہیں۔ جس میں فوجداری عدالت کے بعض دیگر پروگراموں میں کمی کرنے کی آپشن بھی شامل ہے۔

ماہ مئی میں وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر جان کربی نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانا درست طریقہ نہیں ہے۔'

فوجداری عدالت کے حکام کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکا جائے

'عدالت کے غیرقانونی اقدامات کو روکنے کے خلاف قانون' کے لیے بھی سینیٹ کی منظوری ہے۔ یہ قانون منظور ہونے کے نتیجے میں فوجداری عدالت کے حکام کو امریکہ میں داخل ہونے سے روک سکے گا اور ان کے ویزے منسوخ کیے جا سکیں گے۔ اس کے علاوہ بعض دیگر اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں