بھارت کے زیر کنٹرول ریاست جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ کی طرف سے حالیہ دنوں میں ہونے والی 12 ہلاکتوں اور درجنوں زخمیوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی گئی ہے۔ جموں پولیس کے چیف آنند جین نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے 'ہمارا دشمن ہمسایہ ہمارے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔'
یاد رہے ریاست جموں و کشمیر جس میں 1990 کی دہائی سے بھارت سے علیحدگی کی تحریک میں ایک غیر معمولی جوش نمایاں ہو کر سامنے آنا شروع ہوا تھا اور ریاست جموں و کشمیر کی اب تک کی طویل ترین علیحدگی کی تحریک کے طور پر رہی ہے۔ بھارت کا اس تحریک کے بارے میں بھی یہی دعویٰ ہے کہ یہ پاکستان کی مدد سے شروع ہوئی تھی۔ اس میں تقریباً ایک لاکھ کشمیری مرد و زن بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ جبکہ بھارت نے پچھلی تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے یہاں فوج کی تعیناتی کر رکھی ہے۔
پولیس چیف نے اس پس منظر میں ان تازہ واقعات کا الزام بھی پاکستان پر لگایا ہے۔ تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے فوری طور پر اس الزام پر کوئی ردعمل دینے سے گریز کیا۔
واضح رہے پاکستان کا مؤقف ہے کہ ریاست جموں و کشمیر تقسیم ہند کے منصوبے کے تحت مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے جائز طور پر پاکستان کا حصہ ہے اور پاکستان کے بانی قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ جبکہ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر پر تنازعہ 75 برسوں سے زیادہ عرصے سے چلا آرہا ہے۔
بھارتی لوک سبھا کے انتخابات مکمل ہونے کے محض چند دن بعد اسی ریاست جموں و کشمیر میں ہونے والے ایک واقعہ میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ بھارتی سیکیورٹی حکام کے مطابق منگل کے روز علیحدگی کی تحریک کے حامل اس ریاست میں پیرا ملٹری فورسز اور عسکریت پسندوں میں جھڑپ ہوئی۔ جس میں دو علیحدگی پسند جنگجو بھارتی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہوگئے۔ اس دوران ایک سیکورٹی اہلکار بھی مارا گیا اور چھ زخمی ہوئے۔ نیز ایک سویلین بھی زخمی ہوا۔
اس واقعہ سے دو دن پہلے اتوار کے روز 9 ہندو یاتری مارے گئے تھے۔ جبکہ حملہ میں 41 ہندو یاتری زخمی بھی ہوئے۔ یہ واقعہ عسکریت پسندوں کے یاتریوں سے بھری ایک بس پر حملے کی صورت پیش آیا۔
اسی روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تیسری بار وزارت عظمیٰ کا حلف لیا۔ جنھیں پاکستان کے سابق وزیراعظم اور حکمران جماعت کے صدر میاں نواز شریف نے ایک پرجوش اور انتہائی محبت بھرا مبارکباد کا پیغام بھیجا تھا۔
ریاست جموں و کشمیر جس میں پہلے ہی غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات ہیں اور ہزاروں کشمیری جیلوں میں قید یا نظر بند ہیں۔ وہاں مزید سختی کے لیے مطالبات آنا شروع ہو رہے ہیں۔
یاد رہے اگست 2019 میں آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو دیا گیا خصوصی درجہ ختم کرنے کے یکطرفہ بھارتی اقدام کے بعد بھی بھارت نے اپنی سیکیورٹی فورسز کا کشمیر میں بےدریغ استعمال ایک بار پھر تیز کر دیا تھا۔ سیاسی رہنماؤں پر قدغنیں، ان کی ہلاکتیں اور جیلوں میں اموات کے واقعات 2019 اگست کے بعد دیکھنے میں آتے رہے۔ جبکہ مواصلاتی لاک ڈاون، کرفیو، مساجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندیاں ، گھر گھر کریک ڈاؤن ایسے واقعات بھی 2019 کی یادگار کے طور پر ریاست کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔
اس کے ردعمل میں حال ہی میں لوک سبھا الیکشن کے دوران جیل میں قید ایک سیاسی رہنما مودی حکومت کی تمام تر کوششوں اور حربوں کے باوجود جیت گیا ہے۔ جس سے مودی حکومت کو ایک نئی تشویش نے گھیر لیا ہے۔
ریاست جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھی ایک بار پھر خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ہم پڑوسیوں (پاکستان) سے بات چیت نہیں کرتے مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے۔
حالیہ ہلاکتوں کے واقعہ کے بعد ڈائریکٹر جنرل پولیس آر آر سوائن نے کہا ہے 'اس وقت بھی ریاست جموں و کشمیر میں 70 سے 80 غیر ملکی عسکریت پسند موجود ہیں۔ تاہم مقامی عسکریت پسندوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔'
آر آر سوائن نے کہا 'مقامی عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے بعد غیر ملکی عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کا ایک اشارہ پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے نریندر مودی کو پرجوش مبارکبادی پیغام کے جواب میں ٹویٹر پر سامنے آنے والا مودی کا شکریے کا پیغام ہے۔ جس میں مودی نے صاف کہا ہے 'ہمارے لیے اپنے لوگوں کی سلامتی اور بھلائی ہمیشہ ترجیح رہے گی۔'
نریندر مودی کی حکومت پر کشمیری عوام کی طرف سے الزام۔لگایا جاتا ہے کہ وہ کشمیر کی ابادی میں کشمیریوں کا تناسب خراب کرنے کے لیے بہت تیز رفتاری سے اقدامات کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کی زمینوں اور جائیدادوں کو ضبط کیا جا رہا ہے۔ بعض جگہوں پر انہیں ڈرا دھمکا کر ان کی زمینیں اور جائیدادیں خریدی جا رہی ہیں۔ کشمیریوں کی جگہ نہ صرف یہ کہ ہندوؤں کو لا کر آباد کیا جا رہا ہے بلکہ ملازمتوں میں بھی کشمیریوں کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔
-
پاکستانی وزیر اعظم کا نریندر مودی کو تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر پیغام تہنیت
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے نریندر مودی کو بھارت کا تیسری مرتبہ وزیراعظم ...
پاكستان -
نائب وزیر اعظم پاکستان کا اسرائیل کو اسلحہ فراہمی پر پابندی لگانے کا مطالبہ
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہمیں غزہ اور مغربی ...
پاكستان -
ورلڈ بنک : پاکستان کے 'داسو ہائیڈرو پراجیکٹ' کے لیے ایک ارب ڈالر قرضہ منظور
ورلڈ بنک نے منگل کے روز پاکستان کے پانی سے بجلی پیدا کرنے کے ایک بڑے منصوبے 'داسو ...
پاكستان