اسرائیل کو 18 ارب ڈالر کے ایف 15 طیاروں کی فراہمی میں ڈیمو کریٹس کی رکاوٹ دور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو ایف 15 طیاروں کی فراہمی میں کئی ماہ سے جاری رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ جو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے اصولی فیصلے کے باوجود بعض ڈیمو کریٹ سینیٹرز رکاوٹ پیدا کیے ہوئے تھے۔

تاہم جوبائیڈن انتظامیہ نے بالآخر انہیں ہاں کہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان دونوں اہم ڈیموکریٹس میں گیگوری میکس اور سینیٹر بین کارڈن شامل تھے۔ اب وائٹ ہاؤس کے دباؤ کے بعد انہیں نے بھی دستخط کر دیے ہیں۔

اس منظوری کے بعد اسرائیل کو پچاس ایف 15 طیارے امریکہ سے مل جائیں گے۔ ان جنگی طیاروں کی قیمت 18 ارب ڈالر سے زیادہ ہو گی۔ واشنگٹن پوسٹ نے امریکی منظوری کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیر کے روز شائع کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ان دونوں ڈیمو کریٹس پر بھاری دباؤ تھا کہ وہ اسرائیل کے حق میں دستخط کر دیں۔

سینیٹ کی فارن ریلیشن کمیٹی کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر ایرک ہیرس نے اپنے بیان میں کہا ہے وائٹ ہاؤس کے ساتھ جاری مشاورت کے نتیجے میں معاملہ طے ہو گیا ہے۔

میکس نے رپورٹرسے بات کرتے ہوئے کہا 'ممکن ہے یہ ایف 15 طیارے اب سے کئی سال بعد تک بھی اسرائیل کو نہ بھیجے جا سکیں۔ میکس کے مطابق ان کا وائٹ ہاؤس کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے، ہمارا اصرار اس لیے تھا کہ اسرائیل کو فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں سے روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش کی جائے۔

قانون سازوں کے دفتر سے کسی بھی اس بارے میں ابھی تبصرے سے گریز کیا ہے اور رابطہ کرنے کے باوجود جواب نہیں دیا ہے۔ واضح رہے صدر جو بائیڈن اپنے ہی ڈیموکریٹس کے اسرائیل پالیسی پر تحفظات پر بہت دباؤ میں ہیں۔

اسرائیل کی غزہ میں جنگ کو آٹھ ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ اب تک اس جنگ میں 37347 فلسطینی ہلاک کی جا چکے جبکہ 23لاکھ لکے لگ بھگ فلسطینی غزہ میں بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں