ریاست جموں و کشمیر جہاں آزادی کی تحریک کے لیے کشمیری پچھلی کئی دہائیوں سے کوشش کر رہے ہیں۔ بھارتی سیکورٹی فورسز نے دو مشتبہ افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ ان پر شک تھا کہ یہ عسکریت پسند ہیں۔ دو کشمیریوں کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں فائرنگ سے ہلاکت کا یہ واقعہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کشمیر سے ایک روز پہلے پیش آیا ہے۔
واضح رہے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ریاست جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک متنازعہ علاقہ ہے۔ 1947 کے منصوبہ تقسیم ہند کے مطابق اس مسلم اکثریتی ریاست کو پاکستان کا حصہ بنناہے۔ لیکن تقسیم ہند سے کشمیر میں عوام کی جدو جہد آزادی کے لیے جاری ہے۔
کشمیری عوام کی اس جدو جہد کو کچلنے کے لیے بھارت سرکار نے ریاست میں پچھلے تقریباً 35 سال سے لاکھوں کی تعداد میں اپنی باقاعدہ فوج اور دوسری سیکیورٹی فورسز بھی تعینات کر رکھی ہیں۔ اب تک تقریبا ایک لاکھ کشمیری بھارتی فوج و دیگر سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔
بدھ کے روزسوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں پولیس نے کہا ہے کہ دو عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا ہے۔ یہ تازہ واقعہ سوپور کے علاقے میں پیش آیا ہے۔ جو ایک بڑی کشمری رہنما سید علی گیلانی کا قصبہ ہے اور اسے مقامی لوگ منی پاکستان کہتے ہیں۔
پولیس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ' دونوں عسکریت سے اسلحہ اور بارود بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ مودی آج کشمیر پہنچیں گے۔
بھارت سے کسی بھی سیاسی یا حکومتی کے آنے سے پہلے مقامی کشمیریوں کو سیکورٹی حکام کی طرف سے اسی طرح کی سختیوں کا سامنا کر پڑتا ہے۔ مودی نے بطور وزیر اعظم کشمیر کا خصوصی سٹیٹس بھی ختم کر دیا ہے۔ اس کے بعد سے کشمیریوں میں بھارت اور اس کی قیادت کے خلاف غم وغصہ مزید بڑھ گیا ہے۔