انسٹاگرام ایک بار پھر طوفان کی زد میں نابالغ بچوں کو فحش مواد دکھانے کا نیا اسکینڈل
’میٹا’ اور ’ٹک ٹاک‘دونوں کو نابالغوں کو خطرات سے دوچار کرنے کے حوالے سے ہونے والی بہت سی تنقیدوں کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ایک اور اسکینڈل نے انسٹاگرام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
پتہ چلا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’میٹا‘ کا ملکیتی سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم انسٹا گرام اپنے 13 سال سے کم عمرصارفین کو باقاعدگی سے جنسی کلپس دکھانے کرنے کی تجویز کرتا ہے۔
’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق تعلیمی محقق لورا ایڈلسن کی طرف سے کی گئی جانچ کے مطابق یہ تجویز پہلی بار لاگ ان کرنے کے چند منٹوں میں آتی ہے۔
سات مہینوں تک جاری رہنے والے ان تجربات یا ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ انسٹاگرام باقاعدگی سے نابالغوں کو بالغوں کے لیے مختص مواد دکھا رہا تھا۔ شمال مشرقی یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے پروفیسرایڈلسن نے 13 سال سے کم عمر کے نابالغوں کے نئے اکاؤنٹس بنائے۔
تواتر کے ساتھ ریلز کی آمد
انہوں نے کہا کہ میں نے ان اکاؤنٹس کی نگرانی کی جہاں انہوں نے انسٹاگرام پر مختصر ریلوں کی ایک بڑی آمد دیکھی۔
نابالغوں کو دکھائی جانے والی ان ویڈیوز میں خواتین کا ایک گروپ شامل تھا جو دلفریب طریقے سے رقص کرتی تھیں اور ان میں سے کچھ ایسے گھٹیا انداز میں دکھائی دیتی تھیں جو ان کے سینوں کو نمایاں کرتی تھیں۔
پھر صارفین کی جانب سے مبینہ طور پر نابالغوں کے اکاؤنٹس دیکھنے کے بعد انسٹاگرام نے مزید دلچسپ اور جرات مندانہ مواد تجویز کیا۔
شاید حیران کن بات یہ ہے کہ ویڈیو دیکھنے میں اس پیشرفت میں اس وقت سے 3 منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگا جب صارف (جو سمجھا جاتا ہے کہ ایک نابالغ تھا) نے پہلی ریل کلپ دیکھا۔
پھر 20 منٹ سے بھی کم وقت میں خواتین کی ان پروموشنز نے ان اکاؤنٹس پر موجود مواد پر غلبہ حاصل کر لیا۔
کچھ ویڈیوز نے ان صارفین کو عریاں تصاویر بھیجنے کی تجاویز بھی دیں جنہوں نے ان کی پوسٹس کے ساتھ بات چیت کی۔
"جامع نہیں"
دوسری طرف میٹا نے ان ٹیسٹوں کے نتائج کو مسترد کر دیا۔ اس نے کہا کہ یہ نوعمروں کے تجربے کے جامع نظریے کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔ کمپنی کے ترجمان اینڈی سٹون نے کہا کہ "یہ ایک تیار کردہ تجربہ ہے اور اس حقیقت سے میل نہیں کھاتا کہ نوجوان کس طرح Instagram استعمال کرتے ہیں"۔
اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمپنی کی جانب سے اپنے سسٹمز کو نابالغوں کو نامناسب مواد کی سفارش کرنے سے روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "نوجوانوں اور نابالغوں پر ہمارے طویل مدتی کام کے حصے کے طور پر ہم نے حساس مواد کی مقدار کو کم کرنے کی کوشش کی ہے جو نوجوان انسٹاگرام پر دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے گذشتہ چند مہینوں میں اس تعداد کو معنی خیز طور پر کم کیا ہے"۔
واضح رہے کہ اسی طرح کے داخلی تجزیے اور ٹیسٹ جو پہلے میٹا کے ذریعے کیے گئے تھے کے ملتے جلتے نتائج سامنے آئے تھے۔
سنہ 2022 میں ایک علیحدہ داخلی تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ میٹا طویل عرصے سے جانتا تھا کہ انسٹاگرام نے بالغوں کے مقابلے نوجوان صارفین کو زیادہ فحش نگاری اور نفرت انگیزمواد دکھایا تھا۔
میٹا کے ذریعہ کئے گئے سروے میں انسٹاگرام پر نوعمروں کی متعدد رپورٹس کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ بدمعاشی، تشدد اور ناپسندیدہ عریانیت کا سامنا کرتے ہیں جو بڑی عمر کے صارفین سے زیادہ ہیں۔