دہلی کی وزیر کی شدید گرمی کے درمیان شہر میں پانی کے لیے بھوک ہڑتال

اس سال گرمی کی طویل لہر سے دہلی اور بنگلور سمیت دیگر جگہوں پر قلتِ آب میں شدت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

دہلی کی ایک وزیر نے ہندوستان کے دارالحکومت کے لیے پینے کے پانی کے مزید مطالبے کے لیے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ دہلی میں شدید گرمی کے درمیان کچھ غریب ترین محلوں کے نلکے تقریباً خشک ہو رہے ہیں۔

دہلی کی پانی کی وزیر آتشی نے اپنے ہڑتال کے چوتھے دن پیر کو کہا، "شہر میں 2.8 ملین لوگ ہیں جو پانی کی صرف ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔"

لاکھوں ہندوستانیوں کو ہر موسمِ گرما میں پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب محدود فراہمی کے برعکس کھیتوں، دفاتر اور گھروں میں پانی کی طلب بڑھ جاتی ہے لیکن اس سال گرمی کی طویل لہر نے اس کمی کو مزید شدید کر دیا ہے بشمول دہلی اور بنگلور کے جنوبی ٹیک مرکز میں۔

دہلی اپنی پانی کی زیادہ تر ضروریات کے لیے دارالحکومت سے گذرنے والے دریائے جمنا پر انحصار کرتا ہے لیکن موسم گرما کے خشک مہینوں میں دریا کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کی قلت کے لیے احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں اور پانی کے بہتر تحفظ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

آتشی نے ہمسایہ کاشتکار ریاست ہریانہ کو دریا کے پانی کا ایک بڑے حصہ ہڑپ کر جانے کا ذمہ دار قرار دیا۔

ہریانہ کی حکومت نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ دہلی کی بدانتظامی تھی جو پانی کی قلت کا سبب بن رہی تھی۔ ماہرین نے کہا کہ آبادی میں اضافے کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے پانی کی تقسیم کے عشروں پرانے معاہدوں کا وفاقی سطح پر دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت تھی۔

20 ملین آبادی کا شہر دہلی دنیا کے گنجان آباد ترین دارالحکومتوں میں سے ایک ہے جہاں اعلیٰ درجے کے محلے اور خوبصورتی سے تراشیدہ باغیچے محنت کش طبقے کے غیر منصوبہ بند علاقوں اور کچی آبادیوں سے صرف چند میل کے فاصلے پر ہیں۔

لیکن تھنک ٹینک سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ میں پانی کے پروگرام کے ڈائریکٹر دیپندر کپور نے کہا، سالوں کے دوران بڑھتی ہوئی غیر منصوبہ بند ترقی کے برعکس 1994 سے شہر کے دریاؤں سے پانی کی تقسیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انہوں نے کہا، "10-15 سال پہلے جو سچ تھا وہ اب سچ نہیں ہے۔ اس لیے بحران کی صورتِ حال ہے اور یہ تقسیم کا مسئلہ ہے۔"

دہلی حکومت جھیلیں بحال کرکے اور موسمی مون سون بارشوں کے دوران جمنا کے زائد پانی کو ذخیرہ کرکے زمینی پانی کی سطح کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے لیکن حکام کہتے ہیں کہ گرمیوں کی قلتِ آب کو تنہا ان اقدامات سے پورا کرنا مشکل ہے۔

ماہرِ ماحولیات وملیندو جھا نے کہا، "دہلی میں پانی کا بحران سال بھر کا بحران ہے کیونکہ شدید درجۂ حرارت کہیں نہیں جا رہا ہے۔ دہلی کو پانی کے انتظام کے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے جس میں جمنا ہی پانی کا واحد بڑا ذریعہ نہیں بن سکتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں