ٹرمپ کے خلاف مباحثے میں خراب کارکردگی کے باوجود بائیڈن صدارتی مہم جاری رکھیں گے
امریکی صدر جو بائیڈن نے باور کرایا ہے کہ آخری صدارتی مباحثے میں خراب کارکردگی کے باوجود وہ صدارتی انتخابات کی دوڑ میں اپنی شرکت جاری رکھیں گے۔ موجودہ صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پہلے صدارتی مباحثے کو دنیا بھر میں کروڑوں افراد نے دیکھا تھا۔ مبصرین نے بائیڈن کے حوالے سے اس مباحثے کو نہایت مایوس کن قرار دیا تھا۔
شمالی کیرولائنا ریاست میں اپنے حامی مجمع سے خطاب میں بائیڈن نے کہا کہ وہ ماضی کی طرح سہولت سے چلنے اور روانی سے بولنے پر قادر نہیں رہے اور اچھی طرح مباحثہ نہیں کرتے ہیں تاہم وہ امریکیوں کے لیے حقیقت بیان کرنا جانتے ہیں۔
بائیڈن کے تازہ بیان سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ وہ اپنے ریپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف پریشان کن مباحثے کے بعد بھی صدارتی منصب کی دوڑ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
امریکی ایوان کے ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن نے صدر جو بائیڈن کی حالت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی کا نہیں بلکہ ملک کا مسئلہ ہے ، ہم ایک سنجیدہ مشکل کے سامنے کھڑے ہیں .. اس لیے کہ ہمارا ایک صدر ہے جو اپنا کام انجام نہیں دے سکتا"۔
اس وقت ڈیموکریٹس کے ووٹروں کے درمیان بھی پہلے مباحثے میں بائیڈن کی کارکردگی پر تنقید کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ صدارتی دوڑ سے بائیڈن کی دست برداری کی ضرورت کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔
مقابلے سے باہر نکلنے کی اپیل
دوسری جانب امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس میں کرسی صدارت کی دوڑ سے نکل جائیں۔ اخبار کے مطابق موجودہ صدر کو امریکی رائے عامہ کو قائل کرنے کی ضرورت تھی کہ وہ دوسری مرتبہ صدر کے منصب پر فائز ہونے کا معیار رکھتے ہیں تاہم وہ ایسا نہ کر سکے۔ بائیڈن مباحثے میں ٹرمپ کی جانب سے اشتعال انگیزی کا مناسب جواب نہ دے سکے۔
رائے عامہ کے جائزے
ادھر امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کے مطابقMorning Consult کمپنی کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریبا 60 فیصد ڈیموکریٹس ووٹروں نے صدارتی مباحثے کے بعد صدر جو بائیڈن کی جگہ کسی اور ڈیموکریٹ امیدوار کی نامزدگی کو ضروری قرار دیا ہے۔ سروے میں 21% ووٹروں نے بائیڈن کو برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کی انتخابی مہم کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ امریکی صدر مباحثے کے موقع پر نزلے اور گلے میں درد سے دوچار تھے۔ مہم کے ترجمان نے باور کرایا کہ انتخابات سے بائیڈن کی دست برداری کے حوالے سے کوئی بات زیر بحث نہیں ہے۔