ترکیہ کے صدر ایردوان کی جانب سے شام میں حکام اور اس کے صدر بشار الاسد کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات بحال کرنے کے مواقع کے لیے کھلے پن کی تصدیق کے چند گھنٹے بعد شام نے بھی رد عمل ظاہر کردیا۔ شامی ذرائع نے شام اور ترکیہ کے فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے متوقع اور سنجیدہ اقدامات کا انکشاف کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ عراق میں شام اور ترکیہ کے آئندہ اجلاس کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ملاقات بغداد میں ہوگی اور اس کا مقصد سرحدی علاقوں پر ایک معاہدے تک پہنچنا ہے۔ ترکیہ کے ساتھ مذاکراتی عمل طویل ہوگا لیکن سیاسی طور پر اور فیلڈ میں افہام و تفہیم کا باعث بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ترک فریق نے ماسکو اور بغداد سے کہا ہے کہ وہ شامی فریق کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ مذاکرات میڈیا سے دور ہوں اور کوئی ثالث نہ ہو۔ طرفین ان تمام تفصیلات پر بات چیت کریں جن سے دونوں کے درمیان تعلقات بحال ہونے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انقرہ اور دمشق کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے مذاکراتی عمل کو وسیع عرب حمایت حاصل ہوئی ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب اور امارات کی جانب سے اسے روسی، چینی اور ایرانی حمایت بھی حاصل ہوئی۔ یہ ممالک سمجھتے ہیں کہ اس وقت ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے حالات مناسب دکھائی دے رہے ہیں۔
ٹوٹے ہوئے رشتے
یہ بات ترکیہ کے صدر ایردوان کی طرف سے گزشتہ روز نماز جمعہ کے بعد صدر بشار الاسد سے ملاقات کے لیے تیار ہونے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت جیسا کوئی ارادہ یا مقصد کبھی نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے شام کے ساتھ ماضی کی طرح تعلقات استوار کرنے کے لیے اپنی تیاری پر زور دیا۔
دوسری جانب شام کے صدر بشار الاسد نے بدھ کو روسی صدر کے ایلچی الیگزینڈر لاورینتیف سے ملاقات کے بعد ترکیہ کے ساتھ تعلقات اور شامی ریاست کی خودمختاری پر مبنی تمام اقدامات کے لیے شام کے کھلے رہنے کی تصدیق کی۔
بشار الاسد نے وضاحت کی ہے کہ ان کا مقصد شام اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کامیابی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کی تمام اقسام اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف جنگ کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا۔
یاد رہے 2011 میں شام میں تنازع کے آغاز کے بعد سے انقرہ نے سیاسی اور فوجی اپوزیشن کو بنیادی مدد فراہم کی ہے۔ 2016 سے اس نے شام میں تین بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن شروع کیے جن میں بنیادی طور پر کرد جنگجوؤں اور اس کی افواج کو نشانہ بنایا ہے۔