بائیڈن کا غزہ جنگ روکنے کے لیے نیتن یاہو پر دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات میں پیش رفت کی بات کے بعد خاص طور پر قیدیوں کے تبادلے پر حماس کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کے لیے اسرائیلی وفد کو دوحہ بھیجنے کے ساتھ ہی امریکہ نے تل ابیب پر جنگ بندی کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔

امریکہ کی کوشش ہے کہ تل ابیب پر کسی ایسے حل تک پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے جس سے نو ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوسکے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بائیڈن نے نیتن یاہو کو ایک فون کال میں بتایا حماس کے زیر حراست قیدیوں کی جان بچانے کا وقت آگیا ہے۔

اخبار کے مطابق لڑائی کو روکنا بائیڈن کے لیے ان کی خراب سیاسی کارکردگی کے بعد ایک "اہم سیاسی فتح" ہوگی۔ کیونکہ حال ہی میں بائیڈن کی سیاسی کارکردگی کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ صدارتی مباحثے میں تباہ کن قرار دیا گیا تھا۔

زبردست پیشرفت اور ایک حقیقی موقع

ایک سینیر امریکی اہلکار نے جمعرات کو کہا تھا کہ "حماس کی طرف سے پیش کردہ تجویز میں بہت اہم پیش رفت شامل ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ یہ نیتن یاہو پر منحصر ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "غزہ پر ایک معاہدے تک پہنچنے کا ایک حقیقی موقع ہے موجود ہے"۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن کو مطلع کیا کہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ قیدیوں کی بات چیت کے لیے ایک وفد قطر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جبکہ العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ موساد کے سربراہ اور اسرائیلی وفد قطر کے وزیراعظم سے ملاقات کے لیے دوحہ جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں