بائیڈن پر جمعہ کو دستبردار ہونے کا دباؤ، پیلوسی کے پاس آخری اختیار

نینسی پیلوسی بائیڈن کو صدارت چھوڑے کا کہہ سکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ڈیموکریٹک پارٹی تسلیم کرتی ہے کہ وہ اب ایک منفرد تاریخی لمحے سے گزر رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر بائیڈن خاتون اول جل بائیڈن اور ان کے سزا یافتہ بیٹے ہنٹر کی حمایت سے کہ رہے ہیں کہ قسمت اور تقدیر کے سوا کوئی بھی چیز انہیں انتخابی مہم چھوڑنے پر نہیں کرے گی۔

دوسری طرف بائیڈن کے حفاظتی حصار کے باہر ڈیموکریٹس کی ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد مزید ڈرامائی مداخلت کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اوباما سے لے کر کانگریسی لیڈروں تک ہر کوئی اس جمعہ تک بائیڈن سے دستبردار ہونے کی التجا کرے۔ اس حوالے سے بائیڈن اور اس کے ڈیموکریٹک ناقدین ایک مشترکہ جذبہ رکھتے ہیں۔

دونوں اطراف شدید عوامی اور نجی مہمات کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں اطراف کے لوگوں میں سے کون ہتھیار ڈالتاہے۔ بائیڈن نجی اور عوامی طور پر کہتے ہیں کہ وہ ہتھیار ڈالنے والا نہیں بنیں گے۔

اپنی قومی مہم کے شریک چیئرز کے ساتھ ہفتے کے روز بائیڈن پوری رفتار سے آگے بڑھتے ہوئے نظر آئے اور انہوں نے ٹاؤن ہالز میں ہوں یا پریس کانفرنسوں میں ووٹرز کے ساتھ براہ راست بات کرنے میں زیادہ وقت گزارنے کا وعدہ کیا۔ دوسری طرف ڈیموکریٹک قانون ساز 10 دن پہلے ہونے والی بحث کے بعد پہنچنے والے صدمے سے اداسی میں چلے گئے ہیں۔ ان ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ بائیڈن کے اے بی سی کے ساتھ انٹرویو کے بعد ہونے والے نقصان کو پورا نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ایک ہاؤس ڈیموکریٹ نے کہا ہے کہ معاملہ پیر کو بگڑ جائے گا جب یہ کانگریس میں آئے گا۔ لوگ اپنے امکانات سے خوفزدہ ہیں لیکن وہ ملک اور جمہوریت کے بارے میں بھی پریشان ہیں۔ سابق صدر اوباما کے سیاسی معمار ڈیوڈ ایکسلروڈ نے ہفتے کے روز ایک آپشن میں بائیڈن کے موقف کو بیان کیا کہ وہ انکار، فریب اور انحراف میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس کے بڑھتے ہوئے گروپ کو انتخابی تباہی کا خدشہ ہے۔

اتوار کے روز واشنگٹن پوسٹ میں صفحہ اول کے مضمون میں ایک سینئر ڈونر ایڈوائزر کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہر دس لوگوں میں ایسے افراد ہیں جو سوچتے رہے ہیں کہ بائیڈن کو صدارتی امیدواری چھوڑ دینا چاہیے۔ دس میں سے ایک ایسا شخص ہے جو سوچتا ہے کہ اسے رہنا چاہیے۔ بہت سے لوگ جو عوامی طور پر بائیڈن کی حمایت کرتے ہیں وائٹ ہاؤس اور مہم کی درخواست پر نجی طور پر کہتے ہیں کہ ان کے جیتنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

بائیڈن کو ہفتے کے روز کچھ حوصلہ افزا پول خبریں موصول ہوئیں اور بلومبرگ نیوز اور مارننگ کنسلٹ پول نے گرما گرم مقابلہ کرنے والی ریاستوں سے باخبر رہنے سے ظاہر کیا کہ وہ اب مشی گن اور وسکونسن میں ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے ہیں۔ بائیڈن ابھی بھی لازمی جیتنے والی ریاست پنسلوانیا میں پیچھے ہیں۔ وہ اتوار کو پنسلوانیا میں انتخابی مہم چلائیں گے۔

پردے کے پیچھے پارٹی کے تمام دھڑوں کے قانون سازوں نے ’’ایکسیوس‘‘ کو بتایا کہ بڑے عطیہ دہندگان اور اہم ووٹروں کو بائیڈن کی طاقت کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔ ایک سوئنگ سٹیٹ کے قانون ساز نے کہا کہ ہفتہ کے روز ہر کوئی بائیڈن کی عمر کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا۔

ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹس کو ان نمائندوں کی کم تعداد سے بیوقوف نہیں بنایا جانا چاہیے جنہوں نے عوامی طور پر بائیڈن سے دوڑ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ 213 میں سے پانچ ہیں۔

لیکن ایوان کے درجنوں ممبران اور سینیٹرز کے ساتھ ایکسیوس کے نامہ نگاروں کی بات چیت کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ درجنوں لوگ بولنے یا خطوط پر دستخط کرنے کے قریب ہیں جو بائیڈن کو امیدواری چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں۔ یہ بات چیت اس ہفتے مزید تیز ہو جائے گی۔ اگلی لہر اتوار کی سہ پہر آئے گی جب ہاؤس ڈیموکریٹک لیڈر جیف ریز اعلیٰ کمیٹی کے ارکان کے ساتھ زوم سیشن کا انعقاد کریں گے۔

ڈیموکریٹک سینیٹر مارک وارنر سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے ایک گروپ کو منظم کر رہے ہیں اور وہ پیر کی شام کو ہونے والی میٹنگ میں بائیڈن کے مستقبل پر بات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر کوئی ہاؤس کی سابق اسپیکر نینسی پیلوسی کو بھی دیکھ رہا ہے جن کے پاس بائیڈن کو یہ بتانے کا موقع ہوگا کہ معاملہ ختم ہوچکا ہے۔ بہت سے سینئر ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ بائیڈن جمعہ تک اپنا اقدام کر لیں گے۔ اگر بائیڈن نائب صدر کملا ہیرس کو اپنے نامزد امیدوار کے طور پر منظور کرتی ہیں تو انہیں اپنی کوششوں کو تیز کرنے اور اپنے ساتھی کو منتخب کرنے کے لیے وقت درکار ہوگا۔

اگر بائیڈن کسی کو نامزد نہیں کرتے ہیں تو اگست کے وسط میں شکاگو میں ہونے والے ڈیموکریٹک کنونشن میں نامزدگی جیتنے کی کوشش کرنے کے لیے گورنرز اور خواہشمند ڈیموکریٹس کے درمیان ایک بڑا مقابلہ ہوگا۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ہر دن جو گزرتا ہے ایک تباہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں