ریپبلکن حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ صدارتی مباحثے میں تباہ کن کارکردگی کے باوجود صدر جوبائیڈن کا اپنی امیدواری کے بارے میں موقف تبدیل نہیں ہوا ہے، بلکہ وہ صدارتی دوڑ میں شامل رہنے پر اصرار کررہے ہیں۔
بہت سے ڈیموکریٹس نے جوبائیڈن کی صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کے لیے اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔ان میں ایوانِ نمائندگان کے سینئر ڈیموکریٹس بھی شامل ہیں جنہوں نے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگربائیڈن بالآخر استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں یا کوئی اور چیز انہیں دوڑ سے دستبردار ہونے پر مجبور کرتی ہے تو اس سے ڈیموکریٹک پارٹی کا پرچم لے کر انتخابی دنگل میں کودنے کے لیے کسی اور امیدوار کو موقع فراہم کیا جائے گا۔
بہت سے لوگ اس مقابلے میں شامل ہو سکتے ہیں، لیکن صرف چند ہی ایسے ہیں جو معقول طور پر چارج سنبھال سکتے ہیں۔
پولیٹیکو نے ان اہم ڈیموکریٹس پر ایک نظر ڈالی ہے جن کے بارے میں ڈیموکریٹس صدارتی امیدوار بننے کا امکان ظاہر کرتے ہیں۔
کملا ہیرس
فہرست میں سب سے پہلے لوگوں میں سے نائب صدر کملا ہیرس ہیں جو الیکشن میں شامل ہو کر جیت جاتی ہیں تو وہ پہلی خاتون صدر، دوسری سیاہ فام صدر اور پہلی ایشیائی امریکی صدر کے طور پر تاریخ رقم کریں گی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اگر بائیڈن ایک طرف ہٹ جاتے ہیں تو نائب صدر کی فہرست میں سب سے زیادہ ممکنہ پوزیشن کملا ہیرس کی ہے۔
جے بی پرٹزکر
الینوائے کے گورنر اور پرٹزکر خاندان کے ایک ارب پتی رکن’جے بی پرٹزکر‘ایک اہم امیدوار ہیں، جن کا خاندان ایک ہوٹل چین کا مالک ہے اور اپنی انسان دوستی کے لیے جانا جاتا ہے۔
پرٹزکر طویل عرصے سے ایک بڑا ڈیموکریٹک ڈونر رہا ہے، جس کے پوری پارٹی میں گہرے تعلقات ہیں۔
گیون نیوزوم
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم بھی سب سے بڑی واضح طور پر نیلی ریاست کے گورنر کے طور پر وہ ایک اینٹی ریپبلکن شخصیت اور ایک قومی نام کا درجہ رکھتے ہیں۔ جوبائیڈن کی جگہ ممکنہ طور پرانہیں بھی صدارتی امیدوار بنایا جا سکتا ہے۔
گریچین وائٹمر
مشی گن کی گورنر گریچن وائٹمر بھی ایک اہم سوئنگ ریاست سے ابھرتی ہوئی ستارہ ہیں۔ اگر وہ منتخب ہوئیں تو وہ پہلی خاتون صدر ہوں گی اور وہ خواتین کے لیے اہم مسائل پر بات کرنے سے نہیں ڈرتی ہیں۔
گوش شاپیرو
پنسلوانیا کے گورنر گوش شاپیرو پنسلوانیا کی سیاست میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ ہیں، جو سب سے بڑی جھول والی ریاست میں اپنی پارٹی کے صدارتی امیدواروں سے زیادہ ووٹ حاصل کر رہے ہیں۔
پیٹ بٹگیگ
پیٹ بٹگیگ ٹرانسپورٹیشن کے سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ وہ 2020ء کی پرائمری امیدواروں میں سرکردہ امیدوار تھے۔ اب تک کے سب سے کم عمر ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری کا اعزاز حاصل کرنے والے پیٹ بٹگیگ کو اہم ڈیموکریٹک امیدوار قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کے خلاف اپنی ناکام بحث کے 10 دن بعد بھی امریکی صدر جوبائیڈن اپنے کیمپ کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے کہ یہ صرف ایک "بری شام" تھی۔
جب کہ صدارت کے لیےان پرامیدواربننے کا فیصلہ واپس لینے کے لیے دباؤ جاری ہے۔ 81 سالہ ڈیموکریٹ نے ہار ماننے کا کوئی ارادہ نہیں دکھایا، لیکن وہ اپنی انتخابی مہم میں جتنی محنت کر سکتے ہیں اس کے مطابق کام کر رہے ہیں۔
بائیڈن کو اپریل 2023ء میں دوسری میعاد کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کرنے کے بعد سے اتنا فعال نہیں دیکھا گیا ہے۔ وہ 12 جولائی کو مشی گن اور پھر اگلے ہفتے کے دوران ٹیکساس اور نیواڈا کے دورے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
نیز صدر نیٹو کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر منگل سے جمعرات تک واشنگٹن میں نیٹو کے اجلاس کی میزبانی کریں گے۔
-
بائیڈن الیکشن کی دوڑ سے دستبردار نہیں ہوں گے، ان سے نہیں ڈرتا: ٹرمپ
امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان صدارتی نشست اور دوبارہ ...
مشرق وسطی -
امریکہ: بائیڈن کی سبک دوشی کے لیے 25 ویں ترمیم استعمال کرنے کا مطالبہ
امریکی صدر جو بائیڈن نے گذشتہ ماہ کے اواخر میں اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابل ...
بين الاقوامى -
زیلنسکی کو ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کا خدشہ ہے: امریکی میڈیا
نیٹو حکام نے یوکرین کے لیے طویل مدتی فوجی مدد حاصل کرنے کا منصوبہ بنا لیا
بين الاقوامى