سٹارمر کی بائیڈن سے ملاقات،اسرائیل-غزہ، یوکرین اوریورپی یونین کےتعلقات پرتبادلۂ خیال

برطانوی وزیرِ اعظم کی جرمنی کے اولاف شولز سمیت یورپی رہنماؤں سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جمعرات کو برطانوی حکومت کے ایک بیان کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کیئر سٹارمر کو بتایا کہ وہ ان کی طرف سے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

سٹارمر نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں بائیڈن سے ملاقات کی جہاں دونوں افراد نے برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات، یوکرین اور غزہ کے تنازعات اور یورو 2024 کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کی فٹ بال ٹیم کی جیت پر تبادلۂ خیال کیا۔

برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان سکیورٹی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت نے ایک بیان میں کہا، "اپنے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کے بارے میں وزیرِ اعظم کے حالیہ تبصروں کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے برطانیہ کے اے یو کے یو ایس کے ساتھ عہد کا بھی خیرمقدم کیا۔"

نیز بیان میں کہا گیا، "انہوں نے اس بات کی عکاسی کی کہ ایسے وقت میں جب ہمیں دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے، جب ہم متحد ہو کر کام کرتے ہیں تو ہم مضبوط ترین ہوتے ہیں۔"

سٹارمر نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے واشنگٹن میں تھے، جہاں انھوں نے جرمنی کے اولاف شولز سمیت یورپی رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔

سٹارمر نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سلامتی اور تجارت جیسے شعبوں میں تعاون کو بہتر بنانے کے لیے برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات دوبارہ ترتیب دے اور بلاک سے علیحدگی کے لیے برطانیہ کے 2016 کے ریفرنڈم کے بعد جو بدمزگی پیدا ہوئی، اسے کم کیا جائے۔

البتہ انہوں نے یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ یا کسٹم یونین میں دوبارہ شامل ہونے کے کسی بھی اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کی حمایت کے لیے انہیں جو کچھ کرنا پڑے وہ کریں۔ اور انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی مشترکہ خواہش پر تبادلۂ خیال کیا تاکہ یرغمالی رہا ہوں، امداد غزہ کے لوگوں تک پہنچے اور اسرائیلی۔فلسطینی تنازعہ کے دو ریاستی حل کی جانب پیش رفت ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں