’’ ایف 16‘‘ لڑاکا طیاروں کا حصول، کیا یہ زیلنسکی کا جادوئی حل ہے؟

یہ طیارے اس موسم گرما میں یوکرین کے آسمانوں میں پرواز کریں گے: امریکی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی ایف 16 لڑاکا طیارے یوکرین کو فراہم کیے جانے لگے ہیں تو وہ یوکرینی صدر زیلنسکی کی فتح کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ روسی فوج کے محاصرے میں اس ملک میں فضائی دفاعی خلا کو پر کرنے کے لیے یہ لڑاکا ایف سولہ طیارے اکیلے کافی نہیں ہوں گے۔

نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے رکن ممالک نے بدھ کو واشنگٹن میں اپنے رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے دوران اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ڈنمارک اور ہالینڈ سے یوکرین کو ایف سولہ لڑاکا طیارے بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔ ان لڑاکا طیاروں کو جلد استعمال کیا جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے سربراہی اجلاس کے دوران تصدیق کی ہے کہ یہ طیارے اس موسم گرما میں یوکرین کے آسمانوں میں پرواز کریں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یوکرین روسی جارحیت کے خلاف مؤثر طریقے سے اپنا دفاع جاری رکھے گا۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اس قدم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ لڑاکا طیارے ایک منصفانہ اور دیرپا امن کو قریب لا رہے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ دہشت گردی کو ہر جگہ اور ہر وقت ناکام ہونا چاہیے۔ تفصیل کے مطابق ہالینڈ نے 2028 تک 24 عدد ایف سولہ طیارے، بیلجیم نے 30 اور ڈنمارک نے 19 طیارے یوکرین بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔ ناروے اپنے حصے کے لیے6 ایف سوالہ طیارے یوکرین کو فراہم کرے گا۔ اس سال ان کی منتقلی کی کارروائیاں شروع ہوں گی۔

سینٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے ماہر مارک کینسیئن نے کہا ہے کہ علامتی طور پر یہ بہت اہم ہے۔ یہ واقعی وہ آخری چیز ہے جسے زیلنسکی نے یوکرین کے دفاع کے لیے اہم سمجھا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں