وائٹ ہاؤس عملہ بائیڈن کی ذہنی صلاحیتیں چھپانے کی کوشش کرتا رہا: ڈیلی میل
ڈیموکریٹس بائیڈن پر نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے دستبردار ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں
امریکی صدر بائیڈن کو آج جمعہ کو ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کے بعد دوبارہ انتخاب کے لیے اپنی امیدواری ترک کرنے کے لیے مزید مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران وہ کچھ جوابات میں ہکلاتے رہے اور دوسرے اوقات میں درست جوابات دیتے رہے۔
بائیڈن کی اس کارکردگی نے شکوک و شبہات پیدا کردئیے ہیں کہ وہ پارٹی کے ان سیاست دانوں کو اپنی امیدواری پر قائل کر سکیں گے جو ان کی جیتنے کی اہلیت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ وہ فکر مند ہیں کہ 5 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینے کے لیے آیا وہ ہی ان کی بہترین آپشن ہیں اور کیا وہ دوسری چار سالہ مدت تک برقرار رہیں گے۔
ڈیموکریٹس کو تشویش ہے کہ بائیڈن کی مقبول حمایت میں کمی کے ساتھ ساتھ یہ اندیشے بھی بڑھ رہے ہیں کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے لیے بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اور پارٹی کے لیے ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں نشستیں کھونے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس طرح ٹرمپ صدارت جیت سکتے ہیں۔
اس تناظر میں برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا کہ وائٹ ہاؤس کے معاونین نے صدر جو بائیڈن کے علمی زوال کو دنیا سے چھپانے کے لیے ایک "حساب شدہ" منصوبہ پر عمل درآمد کیا لیکن وہ اس وقت بری طرح ناکام ہو گئے جب گزشتہ ماہ ہونے والی بحث کے دوران بائیڈن اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہوگئے۔
اخبار کے مطابق عملے نے اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے بہت سے حربے استعمال کیے تھے۔ صحافیوں کی ان تک رسائی کو محدود کرنا، صدر کو ایئر فورس ون کی چھوٹی سیڑھیاں دینا، انہیں عوامی مقامات پر جسمانی طور پر گھیرے رکھنا انہیں کوششوں کا حصہ تھا۔
بائیڈن کو تقریباً ہر تقریب کے لیے بہت بنیادی ہدایات کے ساتھ بڑے پرنٹ شدہ نوٹ کارڈز بھی دئیے گئے۔ ان کا روزانہ کا شیڈول ایسا رکھا گیا جس میں وہ زیادہ نیند لے سکیں۔ ذریعہ نے بتایا کہ ملازمین نے صدر کو گرنے سے روکنے کے لئے بھی حکمت عملی تیار کی تھی۔
بلومبرگ نے کہا کہ اگرچہ امریکی صدر بائیڈن نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 2024 کی صدارتی دوڑ میں رہیں گے لیکن دو گھنٹے کے اندر دو سنگین غلطیوں نے ان کی ذہنی تگ و دو کے بارے میں خدشات کو مزید گہرا کردیا ہے۔ واشنگٹن میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے غلطی کی۔
پریس کانفرنس سے قبل بائیڈن نے غلطی سے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو روسی صدر پوتین کے طور پر متعارف کرایا۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے نائب صدر کملا ہیرس کے بارے میں یہ کہتے ہوئے غلطی کر ڈالی کہ وہ ان پر اعتماد نہ کرتے تو وہ نائب صدر ٹرمپ کو اپنے رننگ میٹ کے طور پر منتخب نہ کرتے۔
نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر ان کی پریس کانفرنس کے بعد سے ’’ ایکس‘‘ پر ہیش ٹیگ "بائیڈن" سرفہرست آگیا ہے۔ امریکی صدر کی لغزشوں کی ویڈیوز فالو کرنے والوں کی تعداد 20 لاکھ 25 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔