ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ انھوں نے اپنے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کو شام کے صدر بشار الاسد سے ملاقات کی ذمہ داری سونپی ہے تاکہ وہ دمشق کے ساتھ تعلقات کی بحالی شروع کر سکیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ ترکیہ کے صدر نے اپنا وزیر خارجہ کیوں منتخب کیا؟ اور اس مخصوص وقت پر ہی ایسا کیوں ہوا؟
ترک صدر کا یہ اعلان ان کے ان بیانات کے چند دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے بشار الاسد کو کسی بھی وقت ترکیہ میں مدعو کرنے کے امکان کا اشارہ دیا تھا۔ پھر حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ترجمان کے نئے بیانات سامنے آئیں جن میں انہوں نے کہا کہ صدر کی دعوت اور ملاقات کا مقام اور وقت ابھی تک معلوم نہیں ہے۔
بشار الاسد سے ملاقات کے لیے ترک صدر کا فیدان کا انتخاب توجہ حاصل کر رہا ہے۔ ترکیہ کی شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی خواہش سامنے آئی ہے۔ تقریباً 12 سال تک شامی اپوزیشن کے لیے ترکیہ کی حمایت کے پس منظر میں شام کے بحران میں انقرہ کی فوجی مداخلت سے جاری رہی۔
ترک صدر کی جانب سے اپنے وزیر خارجہ کی بشار الاسد سے ملاقات کی تجویز کے بارے میں ایک ترک ماہر تعلیم نے اشارہ کیا کہ یہ انتخاب کئی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔ ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہاکان ترک انٹیلی جنس کے سربراہ تھے اور مذاکرات کے حوالے سے بہت اچھا تجربہ رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ بشار الاسد سے ملاقات کا آغاز کریں گے۔
ترکیہ کے تعلیمی اور سیاسی تجزیہ کار حیدر چاکماک نے کہا ہے کہ بشار االاسد ایردوان سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے لیکن روسی صدر ولادیمیر پوتین نے اصرار کیا ہے۔ شامی صدر چاہتے ہیں کہ ترکیہ مذاکرات کے لیے شام کی سرزمین سے نکل جائے لیکن ایردوان اس سے انکاری ہیں۔
انہوں نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو مزید بتایا کہ ترکیہ میں معیشت کافی خراب ہو چکی ہے۔ پناہ گزینوں کی قیمت بہت زیادہ ہے ۔ ملکی رائے عامہ شام کے مسئلے سے بہت پریشان ہے۔ کردستان کے ورکرز اس مسئلے سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ شام میں پارٹی اور پیپلز پروٹیکشن یونٹس مضبوط ہو رہے ہیں اس کے لیے ایردوان کو اسد حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزرائے خارجہ ان مسائل پر پہلے سے بات کریں گے اور ان میں سے کچھ کو حل کریں گے۔ پھر صدر جب ملاقات کریں گے تو باقی مسائل حل کریں گے۔