تُرکیہ میں مقیم ایک شامی نژاد شامی انسانی حقوق کارکن طحہٰ الغازی کی ترک شہریت واپس لیے جانے کے بعد شامی حلقوں کی طرف سے ان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
الغازی کو ترکیہ میں موجود شامی پناہ گزینوں کے حقوق کا پُر زور حامی سمجھا جاتا ہے۔ گذشتہ دنوں ان کی سوشل میڈیا پر پوسٹوں بالخصوص ’فیس بک‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان کے بعد ان کی ترک شہریت چھین لی گئی ہے۔ تاہم اس واقعے نے الغازی کی حمایت میں یکجہتی کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر #Solidarity_with_Taha_Al Ghazi کے ٹیگ کے ساتھ شامی کارکنوں نے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
الغازی کی ’فیس بک‘ پوسٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی ترک شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ 27 مئی کا ہے، لیکن اس نے اس کا اعلان اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ شام کی پناہ گزین برادری میں خوف اور اضطراب کا کوئی ماحول پیدا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان کی پوسٹ میں کیا کہا گیا کہ شہریت منسوخ کرنے کا ترکیہ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ پرتشدد واقعات رواں جولائی کے آغاز میں پیش آئے جن میں شامی مہاجرین کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ واقعات ، جو قیصری فسادات کے نام سے مشہور ہوئے۔
اگرچہ انسانی حقوق کے اس کارکن نے انکشاف کیا کہ اس کی شہریت واپس لینا ایک "ذاتی معاملہ" ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ترکیہ کی شہریت حاصل کرنے والے شامی پناہ گزینوں کو خدشہ ہے کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جنہوں نے رئیل اسٹیٹ خرید کر تجارتی، صنعتی ادارے کھولے اور ترکیہ میں سروس پروجیکٹ شروع کیے ہیں انہیں الغازی کے انجام سے دوچار ہونے کا خدشہ ہے۔
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انقرہ یونیورسٹی میں قانون کی فیکلٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر نے کہا کہ "ایک شخص جو ترکیہ کا شہری بنتا ہے وہ تین طریقوں سے اپنی ترک شہریت سے محروم ہو سکتا ہے۔ ایک تو یہ شہریت حاصل کرنےوالے شخص نے گمراہ کن معلومات فراہم کی ہوں اور ان کا علم اسے شہریت ملنے کے بعد ہوا ہو۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر بعد میں یہ معلوم ہو کہ شہریت دیتے ہوئے ملک کے قانون کے مطابق قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے تو شہریت منسوخ ہوسکتی ہے۔ شہریت کی منسوخی کا تیسرا طریقہ ہے یہ ہے کہ ایسے لوگ جو ترکیہ میں پیدا ہوئے ہوں یا بعد میں انہوں نے شہریت حاصل کی ہو۔ ان کی شہریت بھی منسوخ کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سےبات کرتے ہوئے مزید کہا کہ " درج ذیل لوگوں کی شہریت ختم ہوسکتی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے کسی ایسے غیر ملک کی خدمت کی جو ترکیہ کے مفادات کو پورا نہیں کرتی اور ترک ریاست کو جب اس کا پتا چلا تو وہ اس کی شہریت منسوخ کرسکتی ہے۔
وہ لوگ جنہوں نے جنگ میں کسی دوسرے ملک کے لیے کسی بھی قسم کی خدمت میں رضاکارانہ طور پر کیا مگر اس کے بارے میں ترک حکومت کو مطلع نہیں کیا گیا۔ وہ لوگ جو رضاکارانہ طور پر کسی غیر ملکی ریاست کی خدمت میں بغیر اجازت فوجی خدمات انجام دیتے ہیں۔ یا ایسے لوگ جو ریاستی سطح پر سنگین نوعیت کے جرائم کے مرتکب پائے جاتے ہیں تو ان کی شہریت بھی منسوخ ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ترک شہریت کے لیےقانون کی سخت پابندی کی ضرورت ہے۔ دوسرے لفظوں میں کوئی بھی شخص اپنی مرضی کے خلاف اپنی شہریت سے محروم نہیں ہو سکتا سوائے ترکیہ کے شہریت کے قانون میں درج مقدمات کے۔ اس کے علاوہ شہریت سے محروم ہونے کی تمام اقسام کو انتظامی سمجھا جاتا ہے۔ جہاں تک طحہ الغازی کا تعلق ہےتو واضح طور پر اس کی شہریت کھونے کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
گذشتہ گھنٹوں میں درجنوں شامیوں نے فیس بک اور ایکس پر پوسٹس میں طٰحۃ الغازی کے لیے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔
ترکیہ میں جہاں 30 لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین رہتے ہیں، ان میں سے ایک چوتھائی ملین نے ترک شہریت حاصل کر لی ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے رواں ماہ اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد سے ملاقات کی خواہش کے اچانک اعلان نے ترکیہ میں موجود شامی پناہ گزینوں میں خوف پیدا کر دیا کہ انہیں ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔