مصر کے ایک تعلیمی ادارے کے جلسہ تقسم اسناد کی ایک تقریب کے دوران اس وقت دل کو چھو لینے والا منظر دیکھا گیا جب ایک سال کی عمر کے بچے کو اس کی ماں کا گریجویشن سند ملی جو گریجویشن کی تقریب سے دو ماہ قبل انتقال کر گئی تھیں۔
واقعے پر ہر آنکھ اشک بار
مصر کی شرقیہ گورنری میں زقازیق یونیورسٹی میں فیکلٹی آف لاء کی گریجویشن تقریب کے دلخراش منظر کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں جاں بحق ہونے والی طالبہ کی بہن می جلال اپنے شیر خوار بھانجےکو اٹھائے شریک ہوئیں۔ وہ بلک بلک کر رو رہی تھی۔
سٹیج پر سب کے سامنے اس کی متوفیہ بہن مریم جلال کا نام پکارا گیا تو بہن اور شیر خوار بچے نے گریجویشن سرٹیفکیٹ اور شیلڈ وصول کی۔ یہ منظر دیکھ کر ہر آنکھ اشک بار تھی۔
"ماما کی گریجویشن"
ننھے محمد کو"گریجویشن کی تقریب کے موقعے پر تیار کردہ ا لباس" پہنایا گیا تھا جس پر "ماما کی گریجویشن" کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔ اسے اس کی خالہ نے اٹھا رکھا تھا، جس نے گریجویشن شیلڈ اور اس کا سرٹیفکیٹ بھی وصول کیا۔
جب گریجوایشن تقریب میں مریم جلال کا نام پکارا گیا تو سب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مریم کی سند وصول کرنے کے لیے اس کا شیرخوار اور ہمشیرہ سمیت کئی رشتہ دار موجود تھے مگرمریم کی زندگی نے وفا نہیں کی۔
قسمت نے مریم کو اپنے خوابوں کوشرمندہ تعبیر ہوتے دیکھنے کا موقع نہ دیا
اس موقعے پر مریم جلا کی ایک سہیلی اینجی سلیمان نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ مرحومہ طالبہ ان محنتی اور شاندار شخصیتوں میں سے ایک تھیں جنہیں ہر کوئی پسند کرتا تھا۔ وہ گریجویشن کے لمحے کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھیں۔ اس نے اس دن کاخواب دیکھا تھا مگر زندگی نے اس کے ساتھ وفا نہ کی۔
سوشل میڈیا پر مریم کے دل سوز واقعے پر ہرشخص رنجم وغم اورصدمے کا اظہار کررہا ہے۔ اس واقعے اور شیر خوار بچے کی اپنی والدہ کا سرٹیفکیٹ وصول کرنے کے مناظر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلے اور ہر طرف اس رنجیدہ واقعے پر بحث کی گئی۔