امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے صدارتی انتخابات کی دوڑ سے دست برداری کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان اینڈرو بیٹس نے بتایا ہے کہ بائیڈن اپنی صدارتی مدت ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت کانگریس میں کئی ریپبلکن قانون سازوں کی جانب سے امریکی صدر کی فوری سبک دوشی کے مطالبے کے بعد سامنے آئی ہے۔
گذشتہ ماہ 27 جون کو جو بائیڈن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ صدارتی مباحثے کے بعد سے امریکی سیاسی منظرنامے میں تیزی کے ساتھ بڑے واقعات رونما ہوئے۔ اس مباحثے میں بائیڈن کی کارکردگی ایک المیے سے کم نہ تھی۔ اس کے بعد الٹی گنتی شروع ہو گئی اور ڈیموکریٹس کی جانب سے بائیڈن کی دست برداری کے مطالبے شروع ہو گئے۔
صدارتی مباحثے کے بعد امریکی جریدےTime نے اپنے شمارے کے سرورق پر بائیڈن کو تصویر یعنی صدارتی دوڑ سے کوچ کرتے دکھایا گیا اور ساتھ “Panic” کا لفظ لکھ دیا۔
جریدے نے 21 جولائی کو صدارتی دوڑ سے بائیڈن کی دست برداری کے بعد ایک اور سرورق شائع کیا جس میں کوئی لفظ نہیں لکھا گیا۔ سرورق کے بائیں جانب صرف بائیڈن کا جسم دکھایا گیا گویا کہ وہ دوڑ سے نکل چکے ہیں اور ان کے پیچھے متوقع متبادل امیدوار ان کی نائب کمالا ہیرس کو آتے ہوئے دکھایا گیا۔ ہیرس کو ڈیموکریٹ پارٹی کے اہم قائدین کی حمایت حاصل ہے۔
واضح رہے کہ 27 جون سے 21 جولائی کے درمیان بائیڈن کی مقبولیت میں کمی آئی۔ ان کی اپنی پارٹی کے بہت سے ارکان نے صدر سے دست برداری کا مطالبہ کیا تاکہ وہ اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھ سکیں۔
27 جون
صدارتی مباحثے میں ٹرمپ کے مقابل بائیڈن کی کمزور کارکردگی اور صدر کے منصب کے لیے بائیڈن کی اہلیت پر شکوک
28 جون
شمالی کیرولائنا ریاست میں انتخابی مہم میں خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ میں روانی سے گفتگو نہیں کر پا رہا مگر مجھے معلوم ہے کہ حقیقت کس طرح بتانی ہے
2 جولائی
لائیڈ ڈوجیٹ پہلے ڈیموکریٹ نمائندے بن گئے جنھوں نے بائیڈن سے سبک دوشی کا مطالبہ کیا
5 جولائی
بائیڈن نےABC ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ صرف خدا ہے جو مجھے دست برداری پر قائل کر سکتا ہے
8 جولائی
بائیڈن نےMORNING JOE پروگرام میں کہا کہ میں ہر گز کہیں نہیں جاؤں گا
10 جولائی
نینسی پلوسی نے کہا کہ صدارتی دوڑ میں شرکت جاری رکھنے کا فیصلہ صدر پر چھوڑ دیا گیا ہے ... پیٹر ویلش پہلے ڈیموکریٹ سینیٹر جنھوں نے بائیڈن سے دست برداری کا مطالبہ کر دیا
11 جولائی
واشنگٹن میں نیٹو سربراہ اجلاس میں بائیڈن نے یوکرین کے صدر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے "صدر پوتین" کہہ دیا اور اسی اجلاس میں اپنی نائبہ کمالا ہیرس کو "ٹرمپ" کے نام سے متعارف کرایا
13 جولائی
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد بائیڈن نظروں سے دور ہو گئے
17 جولائی
بائیڈن کرونا میں مبتلا ہو گئے
19 جولائی
ڈیموکریٹس کی جانب سے دست برداری کے مطالبات کے باوجود بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کی طرف واپس آنے کا اعلان کر دیا
21 جولائی
بائیڈن نے صدارتی انتخاب کی دوڑ سے دست برداری کا اعلان کر دیا