شام کی مسلح حزب اختلاف کو ’انقرہ ۔ دمشق نارملائیزیشن کی کوششوں پر تشویش

ایردوآن سمجھ گئے کہ بشارالاسد کا تختہ الٹنا ناممکن ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

انقرہ اور دمشق کے درمیان 2012ء سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد ترکیہ کی شام کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں زوروں پر ہیں، لیکن دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پہلے کی طرح کیسے واپس آسکتے ہیں،یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ ماضی میں انقرہ کی جانب سے شام کو سیاسی اور فوجی مدد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ شامی اپوزیشن جس نے صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی مارچ 2011ء کے وسط میں ملک میں ہونے والے عوامی مظاہروں کے بعد ترکیہ کی پشت پناہی میں لڑتی رہی ہے۔

ابھی تک ترکیہ کی کوششیں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور ان کے شامی ہم منصب فیصل المقداد کے درمیان بات چیت کے انعقاد تک محدود رہی ہیں تاہم ان مذاکرات کی تاریخ کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے جس کے بعد ایسے حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے جو ترکیہ کی جانب سے مسلح شامی اپوزیشن کے تعاون کو کمزور کر دیں گے۔ ترکیہ کی حمایت یافتہ مسلح اپوزیشن شام کے شمال مغرب اور مشرق میں واقع علاقوں میں موجود ہے۔

باخبر ترک ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "مسلح حزب اختلاف کو خدشہ ہے کہ ترکیہ اور شام کے درمیان کسی قسم کے تعلقات اس کے زیر کنٹرول علاقوں اور جہاں ترک فوج بھی موجود ہے اس کی فوجی اتھارٹی ختم کر سکتی ہے۔ اسی خدشے کے بعد شامی اپوزیشن نے دولت بہشتلی کی قیادت میں سرگرم ایردوآن مخالف ترکیہ کی انتہائی دائیں بازو کی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کی قیادت سے ملاقات کی۔

پچھلے ذرائع کے مطابق مسلح حزب اختلاف کے رہ نما ترکیہ اور شام کے درمیان کسی بھی باضابطہ تعامل کے بعد یا تو ترکیہ یا کسی دوسرے ملک منتقل ہونے کی ضمانتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان میں ’سلطان سلیمان شاہ بریگیڈ‘ کے کمانڈر محمد آل جاسم المعروف ابو عمشہ بھی شامل ہیں جن پر امریکہ نے پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ انہیں حال ہی میں ترک اپوزیشن رہ نما بہشتلی سے ملاقات کرتے دیکھا گیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ نیشنل موومنٹ پارٹی کے سربراہ شمال مغربی اور مشرقی شام میں ترکیہ کی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کو پہنچنے والے "نقصان کو کم کرنے" کے مقصد سے اپنے اتحادی صدر رجب طیب ایردوآن پر دباؤ ڈالیں گے۔

اس تناظر میں ترکیہ کے تعلیمی اور سیاسی تجزیہ کار بنگی بشیر نے زور دیا کہ ترک صدر اور ان کے شامی ہم منصب شام کی جنگ سے پہلے بہت گہرے دوست تھے، لیکن ایردوآن نے مغرب کا ساتھ دیا اور اسد کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ذاتی طور پر ان کے بارے میں برا بھلا کہا، یہاں تک کہ انہیں ایک ’قاتل‘ قرار دیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طاقت کا توازن بدل گیا۔

بشیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "مغربی ممالک کو احساس ہوا کہ وہ اسد کو نہیں ہٹا سکتے۔ اس لیے انہوں نے راستہ بدل دیا جب ہمارے صدر کو معلوم ہوا کہ وہ تنہا ہیں تو انہوں نے دوبارہ بشارلاسد کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن وہ تھوڑا شرمندہ ہیں، اس لیے براہ راست ایسا نہیں کر سکتے۔ اس لیے وہ ثالثوں کی مدد سے یہ کام کررہے ہیں۔

روس اور عراق کے ساتھ مل کر ترکیہ اور شام کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، لیکن دمشق انقرہ سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ تعلقات کی بحالی سے قبل شام کے شمال میں واقع علاقوں سے اپنی فوج واپس بلائے اور شامی اپوزیشن کی مدد کرنا بند کرے۔

شام میں روس کے سفیر الیگزینڈر یفیموف نے اتوار کو حکومت کے قریبی شامی اخبار کے بیانات میں دمشق اور انقرہ کے درمیان رابطے کے براہ راست چینلز کی موجودگی کی تردید کی۔

مغربی میڈیا نے چند روز قبل خبر دی تھی کہ عراق نے امریکہ کو ترکیہ اور شام کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں سے آگاہ کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے شام کے صدر نے ترکیہ سے اپنے ملک کے اس مطالبے کی تجدید کی کہ وہ شامی علاقوں سے اپنی افواج کو نکالے اور مسلح گروپوں کی حمایت بند کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں