غزہ جنگ اور شہری ہلاکتوں کے مخالفین نیتن یاہوکی آمد پرکیپیٹل ہل کے باہراحتجاج کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

غزہ جنگ اور اس کی وجہ سے غزہ میں مسلسل شہری ہلاکتوں میں اضافے کے خلاف واشنگٹن کے رہنے والے متحرک شہریوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کے کانگریس سے خطاب کے موقع پر احتجاج کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اب تک غزہ کی اسرائیلی جنگ میں اسرائیلی فوج نے 38983 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کیا ہے۔ یہ احتجاج کیپٹل ہل کے باہر کیے جانے کا امکان ہے۔ احتجاج امریکہ کی اسرائیلی جنگ کے لیے حمایت کے خلاف بھی ہو گا۔

نیتن یاہو کی امریکہ آمد آمد ہے، مگر اس بار انہیں جو اعزاز ملنے جارہا ہے وہ اب تک کسی غیر امریکی شخصیت کو نہیں ملا ہے۔ وہ پہلے غیر ملکی ہوں گے جنہیں کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے چوتھے خطاب کا موقع ملے گا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ انہیں یہ موقع امریکی کانگریس کی طرف سے اس وقت دیا جا رہا ہے جب بین الاقوامی سطح پر قانون و انصاف کے دونوں بڑے ادارے اسرائیل اور نیتن یاہو کو جنگی جرائم اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دے رہے ہیں۔

مئی میں فوجداری عدالت نے نتین یاہو اور ان کے وزیر دفاع یووگیلنٹ کو جنگی جرائم کے سلسلے میں وارنٹ گرفتاری جاری کرکے گرفتار کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد امریکی کانگریس نے نیتن یاہو کے ساتھ کھڑا ہونے کے لیے انہیں خطاب کی دعوت دے دی۔

مزید دلچسپ یہ بات ہے کہ اسی ماہ 19 جولائی کو بین الاقوامی عدالت انصاف نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ نیز ان مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں بنانے کو بھی غیر قانونی کہا ہے۔ لیکن بین الاقوامی عدالت انصاف کے اس 'ورڈکٹ' کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر نیتن یاہو امریکی کانگریس سے خطاب کرنے واشنگٹن پہنچنا چاہتے ہیں۔

واشنگٹن کی پولیس توقع کر رہی ہے کہ اس روز کافی بڑی تعداد میں غزہ جنگ کے مخالفین اور شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے حامی کیپیٹل ہل کے باہر مظاہرے کے لیے جمع ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اضافی نفری اور انتہائی سیکیورٹی انتظامات کی ضرورت ہوگی۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی ایسا خطرہ اسرائیلی وزیراعظم کو نہیں ہے ۔

توقع کی جا رہی ہے کہ نیتن یاہو صدر جوبائیڈن سے بھی ملاقات کر سکیں گے۔ امریکہ کو غزہ جنگ کے کئی ماہ کے دوران یونیورسٹیوں میں بھی سخت احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ طلبہ کے اس احتجاج کا اثر یورپی ملکوں اور دوسری جگہوں تک منتقل ہوتا نظر آیا ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے حال ہی میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا جس پر مذاکراتی عمل جاری ہے۔ ادھر واشنگٹن میں توقع کی جا رہی ہے کہ احتجاج میں (ANSWER)'Act now to stop war and end racism' خواتین کی قیادت میں کام کرنے والے امن گروپ CodePink کے علاوہ فلسطینی گروپ بھی اس احتجاج میں حصہ لیں گے۔

ان گروپوں میں فلسطینی امریکی کمیونٹی سنٹر اور جیوش گروپ جن میں بطور خاص جیوش وائس فار پیس شرکت کرے گا۔ 'کوڈپنک' نے روئٹرز کو بتایا ہے احتجاج کے منتظمین نے اپنے کارکنوں کو کیپیٹل ہل تک پہنچانے کے لیے بسوں کا انتظام کیا ہے۔ کیونکہ احتجاج کے لیے مختلف امریکی ریاستوں سے لوگوں کے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

یو ایس کیپیٹل پولیس کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ہم بڑی تعداد میں احتجاج کی تیاریاں دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے ہمارے منصوبے میں بڑی تعداد میں افسروں کی ڈیوٹیاں لگائی جا رہی ہیں۔ جس میں پولیس کے علاوہ اہلکار بھی شامل ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شہریوں کے لیے کیپیٹل ہل کے باہر ریڈ لائن قائم کی جائے گی۔ مظاہرین درحقیقت اسی بات پر بدھ کو احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ ایسی کوئی ریڈ لائن امریکہ نے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے لیے کیوں قائم نہیں کی ہے۔

کیپیٹل ہل میں کام کرنے والے 230 نامعلوم ملازمین جن میں 122 آفیسرز شامل ہیں نے ایک دستخط شدہ خط جاری کیا ہے جس میں وہ اپنے حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ 24 جولائی کو نیتن یاہو کی کانگریس میں آمد پر احتجاج کریں یا بائیکاٹ کریں۔ کیونکہ فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے ناجائز قبضے کے بارے میں 'وردکٹ' کے بعد یہ ضروری ہے۔

خیال رہے جنگ کے مخالف امریکی مظاہرین نے اب تک کالجوں، یونی ورسٹیوں ، ٹرین سٹیشنز اور ہوائی اڈوں کے قریب مظاہرے کیے ہیں۔ نیز امریکی شاہراؤں کو بھی مظاہروں کے دوران بلاک کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں