روسی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی ہے کہ روسی افواج جوہری میزائلوں کے لیے متحرک لانچنگ پیڈ کو استعمال کرنے کی مشق سے گزر رہی ہے۔ یہ بات منگل کے روز میڈیا نے رپورٹ کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مشق ایک ماہ کے دوران دوسری مرتبہ جاری ہے۔ میزائل لانچر عملہ ماسکو کے مشرق میں دریائے باسین سے تقریباً 700 کلومیٹر دور ڈپلائی کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'انٹر فیکس' کا کہنا ہے 100 کلومیٹر کے ایریا میں فوجیوں نے اپنے آپ کو کیموفلاج کر رکھا ہے اور ان کی نفری ڈپلائی کی گئی ہے۔
خیال رہے یہ مشق اسی انداز سے جاری ہے جو جولائی کے شروع میں دو مختلف ریجنوں میں شروع کی گئی تھی اور دونوں مشقیں دو ماہ سے بھی کم عرصے میں کی گئی تھیں۔ یہ تب سے شروع ہوئی ہیں جب سے روس نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی اتحادی ملک بیلارس کے ساتھ تنصیب کی ہے۔
بیلاروس کی سرحدیں یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ ہیں اور ان سرحدوں پر ایک جامع قسم کی مشقوں کی سیریز چل رہی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ روسی میزائل کئی قسم کے جوہری وار ہیڈز پر مشتمل ہیں اور دشمن کے اہداف کو ایک ہزار ایک سو کلومیٹر تک نشانہ بنا سکتے ہیں۔
فروری 2022 سے لے کر اب تک جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا ، تب سے روس نے کئی قسم کی فوجی مشقیں کی ہیں۔ یہ فوجی مشقیں روسی افواج نے خود اکیلے بھی کی ہیں اور چین و جنوبی افریقہ کے ساتھ بھی کی ہیں۔
بیلاروس کے ساتھ اس تربیت میں بھی اضافہ کیا ہے۔ دوسری طرف روس کی طرح یوکرین بھی کئی قسم کی مشقیں کر رہا ہے۔