چین کی سرپرستی میں فلسطینی تنظیموں فتح اور حماس کے درمیان مشترکہ بات چیت کے اعلان کے بعد بیجنگ نے رواں سال اپریل میں تصدیق کی تھی کہ فریقین نے مکالمے کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں رواں ہفتے اہم ملاقاتیں ہوئیں۔
چین کے مرکزی ٹیلی وژن کے مطابق فلسطینی گروپوں نے چینی دار الحکومت میں اکٹھا ہو کر مصالحتی بات چیت کی۔ یہ بات چیت 23 جولائی تک جاری رہے گی۔ مزید یہ کہ فتح اور حماس نے مصالحت کے حوالے سے "اعلان بیجنگ" پر دستخط بھی کیے۔
چین کے عالمی ٹیلی وژن نیٹ ورک CGTN کے مطابق فتح اور حماس کے قائدین آج منگل کے روز چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی موجودگی میں میڈیا نمائندوں سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں مجموعی طور پر 14 فلسطینی گروپ شریک ہوں گے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چوننگ کے مطابق فتح اور حماس کئی موضوعات کو زیر بحث لائے اور ان میں "حوصلہ افزا پیش رفت" سامنے آئی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری بیان میں ترجمان نے بتایا کہ فریقین فلسطینی وحدت کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہو گئے۔
یاد رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے فتح اور حماس کے درمیان کئی الزامات کا تبادلہ ہوا اور ایک دوسرے کو ذمے دار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔
رواں سال فروری میں ماسکو نے دونوں جماعتوں کے درمیان ملاقات منعقد کی۔ اس موقع پر فلسطینی یکجہتی کی حکومت کی تشکیل اور غزہ کی تعمیر نو کے معاملات پر بات چیت ہوئی۔ تاہم کوئی قابل ذکر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
گذشتہ برسوں کے دوران میں دونوں فلسطینی تنظیموں کے درمیان تعلق کئی اختلافات کا شکار رہا اور فریقین کے بیچ مصالحت کی متعدد کوششیں سامنے آئیں۔ ان کوششوں میں مصر ، قطر اور دیگر عرب فریقوں نے کردار ادا کیا۔ تاہم یہ تمام مصالحتیں اور معاہدے فریقین کے بیچ تمام اختلافات ختم نہیں کر سکے۔