یوکرین میں روس کے لیے لڑتے ہوئے پانچواں ہندوستانی ہلاک

ہزاروں غیر ملکی روسی فوجیوں میں سینکڑوں ہندوستانی شامل، ملازمت کا جھانسہ دے کر سمگل کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

یوکرین میں روسی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے ایک ہندوستانی فوجی کی موت واقع ہو گئی جو اس تنازع میں اب تک ہندوستانی شہری کی پانچویں تصدیق شدہ ہلاکت ہے۔ یہ بات ہلاک شدہ فوجی کے ایک رشتہ دار نے پیر کو بتائی۔

ان ہزاروں غیر ملکی فوجیوں میں سینکڑوں ہندوستانی شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں ماسکو نے اپنی افواج کو تقویت دینے کے لیے بھرتی کیا اور اب نئی دہلی نے ان کی وطن واپسی پر زور دیا ہے۔

ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس ماہ ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتین سے ملاقات کی اور انہیں اس سلسلے میں "یقین دہانی کرائی گئی"۔

22 سالہ روی مون کے بھائی اجے نے اے ایف پی کو فون پر بتایا کہ جنوری میں وہ اس وقت روس گئے جب انہیں ایک نجی بھرتی ایجنٹ نے ٹرانسپورٹ میں نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا۔

لیکن بعد میں انہیں ہتھیاروں کی تربیت دی گئی اور مارچ میں یوکرین کے ساتھ سرحد پر لڑائی میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا۔

اجے نے کہا، "ان سے رابطہ ختم ہونے کے بعد میں نے ماسکو میں ہندوستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ میرے بھائی کی موت واقع ہو گئی تھی۔" انہوں نے مزید کہا کہ سفارت خانے نے ان کے خاندان کو مون کی لاش کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے بھیجنے کو کہا تھا۔

اجے نے کہا کہ ان کا بھائی ایک بار سرحد سے واپس آ گیا تھا لیکن بعد میں اسے دوبارہ لڑنے کے لیے لے جایا گیا۔

یہ واضح نہیں تھا کہ ان کی موت کب ہوئی تھی۔

اجے نے کہا، "اس کے بعد ہمارا ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔" انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خاندان نے مون کی لاش واپس لانے کے لیے وزیرِ اعظم مودی سے مدد کی اپیل کی تھی۔

دو سال سے زیادہ عرصہ پہلے جب روس نے یلغار کی، تب سے یوکرین میں اس کے دسیوں ہزار فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور ماسکو مزید فوجیوں کی عالمی جستجو میں ہے۔

ہندوستان کی وزارتِ خارجہ نے گذشتہ ہفتے کہا، حکومت روسی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے والے تقریباً 50 ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے روسی حکام کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سال اب تک چار دیگر بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہندوستانی حکام نے روسی فوج کے لیے لڑنے کی غرض سے ملک کے شہریوں کو سمگل کرنے کے الزام میں متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے ان لوگوں سے غیر جنگی ملازمتوں کا وعدہ کیا تھا۔

تیز رفتار اقتصادی ترقی کے باوجود ہندوستان میں بے روزگاری کی شرح بلند ہے اور ہر سال کام کی تلاش میں بڑی تعداد میں لوگ بیرون ملک جاتے ہیں۔

ان میں وہ ہزاروں لوگ شامل ہیں جو غزہ میں حماس کے خلاف جنگ کی وجہ سے مزدوروں کی قلت پیدا ہو جانے کے بعد اسرائیل میں ملازمت کی تلاش میں گئے۔

ہندوستان روس کا دیرینہ اتحادی ہے اور اس نے یوکرین پر حملے کی واضح مذمت سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے۔

مودی نے کہا کہ انہوں نے اس ماہ پوتین کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران تنازعہ پر "کھل کر اور تفصیلی" بات چیت کی ہے۔ انہوں نے پرامن مکالمے کا مطالبہ کیا اور مزید کہا،"جنگ مسائل کو حل نہیں کر سکتی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں