ایران: پیزشکیان کی افتتاحی تقریب کی تصویر سے قالیباف کو ہٹانے پر ہنگامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی سے متعلق گفتگو پیر کے روز ملک کے حکومت نواز سیاسی حلقوں پر چھائی رہی۔ ہوا یوں کہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن سے وابستہ اخبار ”جام جام“ نے صفحہ اول پر فوٹو شاپ کی مدد سے مسعود پیزشکیان کی افتتاحی تقریب کی تصویر سے قالیباب ایجی کو ہٹا دیا۔ اس کے بعد ایران میں بڑے پیمانے پر رد عمل سامنے آیا۔

پارلیمانی ریسرچ سینٹر میں سائنسی ادارے کے ایک رکن جو قالیباف کے قریب ہے نے اصلی اور فوٹو شاپ شدہ تصاویر شائع کر دیں اور تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کیا آپ فوٹوشاپ کے ساتھ قالیباف کو ہٹا سکتے ہیں؟

اصلی اور ایڈٹ کی گئی  تصاویر ایک ساتھ
اصلی اور ایڈٹ کی گئی تصاویر ایک ساتھ

سیاسی تجزیہ کار اور اصلاحی کارکن عباس عبدی نے کہا ہے کہ یہ اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کی میڈیا کی پیشہ ورانہ وابستگی کی سمجھ ہے۔ سرکاری میڈیا کے نظام میں اصلاحات کے بغیر کوئی مثبت قدم پائیدار ثابت نہیں ہوگا۔

اخبار نے کیا کہا

اخبار ”جام جام“ نے وضاحت کی ہے قالیباب کی تصاویر کو ہٹانا فلمنگ کے حالات اور ہیڈ لائن کی جگہ کی وجہ سے تھا۔ انہوں نے مزید کہا اس کے پیچھے کوئی سیاسی ارادہ نہیں تھا۔ اخبار نے عوام سے اور ملک کی قانون سازی اور عدالتی شاخوں کے سربراہوں سے معافی بھی مانگی۔

واضح رہے اصلاح پسند مسعود پیزشکیان نے اتوار کو ایران میں باضابطہ طور پر صدارت کا عہدہ سنبھالا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں