فلسطینی قیدی پر جنسی تشدد میں ملوث اسرائیلی اہلکاروں کی گرفتاری کے حکم کے خلاف انتہا پسند مظاہرین اور ارکان کنیسٹ نے دو اسرائیلی فوجی اڈوں پر دھاوا بول دیا۔
گرفتاری رکوانے کے لیے اسرائیلی مظاہرین نے ملٹری پولیس سے لڑائی بھی کی جب کہ مظاہرین میں اسرائیلی انتہا پسند ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق صورتحال قابو کرنے کےلیے شمالی محاذ پر سرگرم اہلکاروں کو بلانا پڑا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مظاہرین کے فوجی تنصیبات میں گھسنے کی مذمت کی ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ زیادتی میں ملوث اہلکاروں نے ویڈیو پیغام میں اسرائیلی عوام سے باہر نکلنے اور گرفتاری رکوانے کا مطالبہ کیا تھا۔