مصری حزبِ اختلاف کے رہنما یحییٰ عبدالہادی کو معافی کے دو سال بعد حراست میں لے لیا گیا
انہیں سادہ لباس والے سڑک پر گاڑی سے اتار کر لے گئے
ممتاز وکیل خالد علی نے جمعرات کو کہا کہ صدارتی معافی ملنے کے دو سال بعد مصری حزبِ اختلاف کے رہنما یحییٰ عبدالہادی سے دہشت گردی کے الزامات تفتیش کی گئی اور انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
علی نے فیس بک پر کہا کہ انہیں بدھ کو حکام نے مطلع کیا کہ عبدالہادی کو ریاستی سکیورٹی پراسیکیوشن ہیڈکوارٹر لے جایا گیا تھا۔ اس کے بعد کی ایک پوسٹ میں انہوں نے مزید کہا، "اب تفتیش ختم ہو گئی ہے" اور یہ کہ عبدالہادی کو جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔
"پبلک پراسیکیوشن نے انجینئر یحییٰ عبدالہادی کو 15 دن کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم جاری کیا۔" انہوں نے جمعرات کی صبح اپنی پوسٹ میں کہا۔
نیز کہا گیا، "ان کے خلاف الزامات میں دہشت گرد گروپ میں شامل ہونا، سوشل میڈیا کا غلط استعمال، افواہیں اور جھوٹی خبریں نشر اور شائع کرنا، دہشت گردی کی مالی معاونت کے جرم کا ارتکاب اور دہشت گردی کے جرم کے لیے اکسانا شامل ہیں۔"
علی نے اس سے قبل پوسٹ کیا تھا کہ حزبِ اختلاف کی تجربہ کار شخصیت کو "شہری لباس میں ملبوس متعدد افراد" قاہرہ کی ایک مصروف سڑک پر ایک گاڑی سے زبردستی اتار کر لے گئے یعنی "انہیں نامعلوم مقام پر اغوا کر لیا۔"
2022 میں جب صدر عبدالفتاح السیسی نے صدارتی معافی دینے والی کمیٹی کو دوبارہ فعال کیا تو عبدالہادی اولین معاف کردہ مخالفین میں شامل تھے۔
"جھوٹی خبریں پھیلانے" کے الزام میں تین سال جیل میں رہنے کے بعد انہیں جون میں رہا کر دیا گیا تھا حالانکہ انہیں رہائی سے چند ہفتے قبل ہی سزا سنائی گئی تھی۔
سیسی کی انتظامیہ کے ناقد عبدالہادی کفایہ تحریک کی ایک کلیدی شخصیت تھے جس نے 2011 میں حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹنے میں مدد کی تھی۔
حکومت نے 2022 کے بعد سے "قومی مکالمے" کا دوبارہ آغاز اور سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا ہے لیکن حقوق کے گروپ کہتے ہیں کہ اسی عرصے میں کم از کم تین گنا زیادہ گرفتار کیے گئے ہیں۔