سنگاپور میں چند ہی دنوں میں دوسرے قیدی کو سزائے موت
ملک میں اس سال یہ تیسری سزائے موت ہے
حکام نے بتایا کہ سنگاپور میں بدھ کے روز ایک 59 سالہ شخص کو منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں پھانسی دے دی گئی جو شہری ریاست میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری سزا ہے۔
اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے گروپ کہتے ہیں کہ سزائے موت کا کوئی ثابت شدہ انسدادی اثر نہیں ہوتا اور انہوں نے اسے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم سنگاپور کے حکام کا اصرار ہے کہ اس سزا سے ملک کو ایشیا کا ایک محفوظ ترین ملک بنانے میں مدد ملی ہے۔
سنٹرل نارکوٹکس بیورو (سی این بی) نے ایک بیان میں کہا، "ایک 59 سالہ سنگاپوری کو سزائے موت سنائی گئی جو سات اگست 2024 کو عمل میں آئی۔"
اس شخص کو "کم از کم 35.85" گرام (1.3 اونس) خالص ہیروئن کی سمگلنگ کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔
سنگاپور میں منشیات کے نہایت سخت قوانین کے تحت 15 گرام سے زیادہ ہیروئن کی سمگلنگ پر سزائے موت دی جاتی ہے۔
سی این بی نے کہا، "مجرم کے ساتھ قانون کے تحت مکمل مناسب سلوک کیا گیا اور اس پورے عمل میں قانونی مشیر نے اس کی نمائندگی کی تھی۔"
ادارے نے مزید کہا، "انہوں نے اپنی سزا اور فیصلے کے خلاف اپیل کی اور اپیل کورٹ نے 11 مئی 2022 کو ان کی اپیل مسترد کر دی۔ صدر کو دی گئی معافی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔"
مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
سنگاپور میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری اور اس سال کی تیسری پھانسی ہے۔
جمعہ کو سنگاپور کے ایک اور 45 سالہ شخص کو بھی 36.93 گرام ہیروئن سمگل کرنے کے جرم میں پھانسی دے دی گئی۔
فروری میں ایک 35 سالہ بنگلہ دیشی شخص احمد سلیم کو سنگاپور میں اپنی سابق منگیتر کے قتل کے جرم میں تختۂ دار پر لٹک دیا گیا تھا۔
اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق سنگاپور میں مارچ 2022 میں سزائے موت پر عمل درآمد دوبارہ شروع کیا گیا اور بدھ کی سزائے موت سے اس وقت سے اب تک پھانسی پر لٹکائے گئے افراد کی تعداد 19 ہو گئی ہے۔
سنگاپور نے کووڈ-19 وبائی امراض کے دوران دو سال تک پھانسی پر پابندی لگا دی تھی۔