مصر کی الزقازیق یونیورسٹی کی فیکلٹی آف کامرس میں ایک طالب علم کی اپنے کالج کے اساتذہ اور ساتھیوں کے سامنے ڈانس کرتے ہوئے ایک ویڈیو پھیلنے کے بعد مصریوں نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ سٹوڈنٹ نے کلاس کے گریجویشن اور ڈگری حاصل کرنے کے جشن کے دوران رقص کیا تھا۔ یونیورسٹی نے اس سٹوڈنٹ کو تحقیقات کے لیے ریفر کرنے کا فیصلہ کیا تو جامعہ الازہر میں غم و غصہ پھیل گیا۔
یونیورسٹی کا بیان
الزقازیق یونیورسٹی نے واقعے کا ارتکاب کرنے والے طالب علم کو تحقیقات کے لیے حوالہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پیجز پر ایک گریجویٹ کی جانب سے یونیورسٹی کی روایات اور اصولوں سے انحراف کرنے کے واقعے کے بارے میں گردش کرنے والی ویڈیو پر کارروائی کی جارہی ہے۔ اس گریجویٹ نے الزقازیق یونیورسٹی سٹیڈیم کے گرینڈ سیلیبریشن ہال میں گریجویشن کی ایک تقریب میں ڈانس کیا تھا۔
یونیورسٹی نے یونیورسٹی کی روایات اور رسوم و رواج کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اخلاقیات اور عوامی اخلاقیات کی پابندی کی اہمیت پر زور دیا اور کہا عوامی اخلاقیات مرد اور خواتین طالب علموں کے دلوں میں پیوست ہیں۔
یونیورسٹی کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم اس بات کی نشاندہی کرنا چاہیں گے کہ یہ واقعہ طالب علم کی گریجویشن پر خوشی کا اظہار کرنے کے لیے ایک انفرادی عمل ہے لیکن یہ عام اور مانوس سیاق و سباق سے اس طرح ہٹ گیا ہے جو اس کی رازداری اور حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یونیورسٹی میں اس مسئلے پر بحث کی گئی اور اسے تحقیقات کے لیے بھیجا گیا ہے۔
حد سے آگے بڑھنا
الازہر الشریف میں سینئر سکالرز کی کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عباس شومان نے گریجویشن کی تقریبات میں رقص کے رجحان پر تبصرہ کیا اور کہا یہ واقعہ گریجویشن کی تقریبات میں طالبات کے بار بار رقص کرنے کے رجحان کے بعد سامنے آیا ہے۔ گریجویشن کی تقریبات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ تمام حدوں کو پار کر چکا ہے۔ نہ صرف مرد اور خواتین گریجویٹس کی طرف سے بلکہ کچھ والدین اور کچھ تدریسی عملے کی طرف سے بھی حد سے تجاوز کیا جاتا ہے۔