کولمبیا یونیورسٹی : اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج نہ روکنا استعفے کا باعث بن گیا
کولمبیا یونیورسٹی کی سربراہ مینوش شفیق کو بھی بالآخر اپنے انتہائی اعلیٰ اور پروقار منصب سے مستعفی ہوناپڑ گیا۔ کولمبیا یونیورسٹی نیویارک کی یونیورسٹیوں میں نمایاں ترین ہے اور اس کی سربراہی کا اعزاز ایک غیرمعمولی بات ہے۔ لیکن غزہ میں جاری اسرائیل کی خوفناک جنگ کے بعد ایسا کئی امریکی یونیورسٹیوں میں ہو چکا ہے کہ جنگ مخالف طلبہ و طالبات کا تعلیمی سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ اب یونیورسٹی کی سربراہ بھی استعفا دینے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ ان سے پہلے بھی متعدد تعلیمی شخصیات اسی طرح زد میں آچکی ہیں۔
سربراہ کولیمبیا یونیورسٹی مینوش شفیق کے بارے میں ان کے خلاف رائے رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ جنگ کے خلاف طلبہ کی مزاحمت روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں تھیں۔
واضح رہے امریکہ کی مختلف اہم جامعات میں غزہ جنگ کے خلاف اس وقت احتجاج نے شدت پکڑ لی تھی جب اسرائیلی بمباری سے خؤاتین اور بچوں کی بڑی تعداد جاں بحق ہونے پر امریکی یونیورسٹیوں م طلبہ و نوجوانوں میں سخت ردعمل دیکھنے میں آیا۔
اسی طرح انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ہلاکتوں کی اس بڑی تعداد کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران امریکی تعلیم گاہوں میں جنگ مخالف طلبہ کے مظاہرے اور دھرنے ہوئے جنہیں میڈیا نے اسرائیل مخالف اور یہود مخالف مظہروں کے طور پر پیش کیا۔
طلبہ نے یونیورسٹی کیمپیسز کے اندر پرامن احتجاج کرتے ہوئے کئی جگہوں پر اپنے مطالبات کے لیے دھرنے دیے تھے۔ اب اسی سلسلے میں کولمبیا یونیورسٹی کی سربراہ مینوش شفیق کو چھ ماہ بعد استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی سربراہ نے استعفے سے متعلق اپنے خط میں لکھا ہے کہ' مختلف اور اہم شعبوں میں ان کے زمانے میں ترقی ہوئی۔ تاہم ان کا دور ایک طرح سے بحرانی دور رہا۔ جیسا کہ اس عرصے میں پورے ملک میں احتجاج چل رہا تھا۔ '
انہوں نے اس امر کو تسلیم کیا کہ یونیورسٹی کیمپیس کے اندر احتجاج ہی بالآخر ان کے استعفے کا سبب بنا ہے۔ اس دوران میرے خاندان کو بھی کافی نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا 'میں موسم گرما کے شروع سے اس فیصلے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ میرا یہ فیصلہ کولمبیا کو آنے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل بنائے۔
واضح رہے کولمبیا یونیورسسٹی کے تین ڈینز کو بھی ہٹا دیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھاکہ انہوں نے کیمپس میں یہودیوں کی زندگی اور یہودی دشمنی کے بارے میں بحث میں توہین آمیز تحریروں کا تبادلہ کیا تھا، یونیورسٹی کی سربراہ نے ان کے بیانات کو ' غیر پیشہ ورانہ اور قدیمی یہودی دشمنی کے مترادف تھے۔
خود یونیورسٹی کی سربراہ شفیق کو رواں سال کے شروع میں کانگریس کے سامنے جواب دہی کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ ری پبلکنز کی طرف سے انہیں شدید تنقید کا نشنہ بنایا گیا تھا۔ ری پبلکنز کی طرف سے انہیں یہود دشمنی کے لیے ضروری اقدامات نہ کرنے کے الزام کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔
اب انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ انہیں خوشی ہے کہ مجھے عالمی غربت سے اور مستقل امن کے قیام کے لیے واپس جانے کا موقع ملا ہے۔ برطانوی حکومت کے ساتھ اہم قانونی ساز کا موقع ملے گا۔' ہو سکتا ہے شفیق کو برطانیہ کی نئی حکومت ہاؤ س آف لارڈز میں جانے کا موقع دے دے۔
دریں اثنا کولمبیا یونیورسٹی نے اعلان کیا ہے کہ نائب صدر 'کیٹرینا 'آرمسٹرانگ 'کو عارضی صدر بنایا گیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز محسوس ہو رہا ہے۔' ان کا کہنا ' ایک سال کے دوران کولمبیا کو جن حالات سے گذرنا پڑا ہے، ان سے اچھی طرح آگاہ ہوں۔'
خیال رہے شفیق پچھلے ہی یونیورسٹی کی پہلی سربراہ بنی تھی۔ تاہم انہیں بہت بڑے چیلنجوں کا سامنا رہا۔ ان کی تقرری کے وقت کولمبیا بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئر مین کا کہنا تھا' یہ ایک رہنما ہیں اور تعلیمی امور کے علاوہ بھی دنیا کو بہت گہرائی سے سمجھتی ہیں۔ وہ پہلی خاتون سربراہ تھیں۔'