طلائی تمغہ جیتنے والی اولمپیئن باکسر ایمان خلیف کا الجزائر واپسی پر پرتپاک استقبال

خلیف کو جنس کے حوالے سے الزامات اور سوالات کا سامنا رہا جو اولمپک کی تاریخ کا نادر واقعہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پیرس اولمپکس 2024 میں خواتین کی ویلٹر ویٹ باکسنگ میں طلائی تمغہ جیتنے والی الجزائر کی باکسر ایمان خلیف نے کھلاڑیوں کی حمایت کرنے پر اپنے ملک اور عوام کی تعریف کی اور کہا کہ وہ مستقبل میں دوبارہ اپنے ملک کا نام فخر سے بلند کرنے کی امید رکھتی ہیں۔ وہ جمعے کو اپنے آبائی شہر پہنچیں تو ان کے استقبال کے لیے عوام کا جمِ غفیر امڈ آیا۔

فٹ بال کا جنون رکھنے والے شمالی افریقی ملک نے اس ہفتے کے شروع میں الجزائر واپس آنے کے بعد سے خلیف کے ساتھ ایک مشہور شخصیت جیسا سلوک کیا ہے۔ انہوں نے وسطی الجزائر کے بڑے دیہی علاقے تیارت میں پرورش پائی اور باکسنگ سیکھی۔

انہیں اور ٹریک سٹار جمال سجاتی کو مقامی رہنماؤں نے اعزاز سے نوازا اور پھر انہوں نے ایک بس کے اوپر سڑکوں پر پریڈ کی تو سینکڑوں لوگوں نے ہاتھ اٹھائے اور تصاویر کھینچیں۔

انہوں نے جمعہ کو مقامی حکومت کے دفتر میں صحافیوں کو بتایا، "الجزائر کے تمام مردوں اور عورتوں کو خوشی اور جشن منانے کا حق ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اور عوام سب کھیلوں کے حامی ہیں۔"

الجزائر کے لوگوں نے بھرپور طریقے سے خلیف کا دفاع کیا جب بین الاقوامی جانچ پڑتال اور جنس کے بارے میں لاعلمی پر مبنی قیاس آرائیوں کے درمیان وہ اولمپک کھیلوں میں آگے بڑھیں۔

خواتین کے مقابلے کے لیے اہلیت کے غیر متعین اور غیر شفاف ٹیسٹ میں ناکام ہو جانے کے بعد وہ صنف، جنس اور کھیلوں کے بارے میں مغربی مباحثوں کا موضوع بن گئیں حالانکہ وہ ایک عورت کے طور پر پیدا ہوئیں اور پرورش پائی۔ 2023 میں ٹیسٹ لینے والی بین الاقوامی باکسنگ ایسوسی ایشن پر اب پابندی لگا دی گئی ہے۔

بطورِ مبصرین ارب پتی ایلون مسک، مصنفہ جے کے۔ رولنگ اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آن لائن پوسٹس میں ان کا تذکرہ ایک مرد کے طور پر کیا۔ اس تنازع کو الجزائر کے لوگوں نے اپنی قوم پر حملہ تصور کیا۔

جمعہ کو تیارت کے رہائشیوں نے ان مشکلات کا اعتراف کیا جن کا خلیف کو پورے اولمپکس میں سامنا ہوا اور امید ظاہر کی کہ ان کی کامیابی صرف ابتدا تھی۔

جمعہ کی سہ پہر تیارت میں خلیف کے پاس بیٹھے محمد حمو نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ حکام ایسی فتح کے لمحات کے ساتھ ساتھ پورا سال ان کا ساتھ دیں گے۔ انہیں بہت زیادہ تکلیف کا سامنا ہوا ہے اور انہوں نے صفر سے ابتدا کی ہے۔"

بعد ازاں پریڈ میں تیارت کی ایک اور رہائشی ناجیہ فہمہ نے ان کی فتح پر خوشی کا اظہار کیا اور انہیں ایک متأثر کن شخصیت قرار دیا۔

فہمہ نے کہا، "انہوں نے ہمیں واقعی قابلِ فخر بنا دیا ہے خاص طور پر اپنے کیریئر کے لحاظ سے اور جس طرح سے یہ کامیاب ہوئی ہیں۔"

خلیف نے فرانس میں سائبر ہراساںی کی مجرمانہ شکایت درج کروائی جس میں ان کے وکیل نے پورے اولمپکس میں ان کے خلاف "پدر سری، نسل پرستانہ اور جنس پرستانہ مہم" کا الزام لگایا۔

بدھ کے روز خلیف نے الجزائر کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل ال بلاد پر ان مشکلات اور خوف کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا، کسی کو بھی ان کی جنس پر سوال اٹھانے کا حق نہیں ہے اور وہ ایسی نہیں ہیں جو سیاست اور کھیل کو ملانے میں خوشی محسوس کریں۔

انہوں نے پوچھا، "پوری دنیا میں ایسا شور کیوں تھا؟ میں خوفزدہ تھی لیکن خدا کا شکر ہے، میں اس پر قابو پانے میں کامیاب رہی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں