مصرکے ایک ہسپتال کی لفٹ کے دروازے کے بیچ پھنس کرایک مریضہ کی موت کے واقعے نےہر طرف صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ واقعہ الجیزا گورنری کےایک ہسپتال میں پیش آیا۔ حکام نےحادثے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
مصری وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر حسام عبدالغفار نے جیزا گورنری کے شبرمنت سینٹرل ہسپتال میں ایک مریضہ کی موت کی ہسپتال کی لفٹ کے دروازے میں پھنس کر فوت ہونے کے المناک واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
عبدالغفارنے بتایاکہ مصری وزیر صحت ڈاکٹر خالد عبدالغفارنے شبرمنت ہسپتال میں ایک مریضہ کی موت کی تحقیقات کے لیےانکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔
کل ہفتے کی شام ایک مصری سیٹلائٹ چینل پر بیان دیتے ہوئے وزارت صحت کے ترجمان نے متوفیہ کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی 24 گھنٹوں کے اندر اپنی رپورٹ وزیر کو پیش صحت کو پیش کرے گی۔
لفٹ کی اچانک حرکت
انہوں نے مزید کہا کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب مریضہ کو جوائنٹ سرجری کے بعد لفٹ کے ذریعے منتقل کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ لفٹ کی اچانک حرکت کے باعث مریضہ کے جسم کا ایک حصہ اندر اور دوسرا حصہ باہر پھنس گیا، جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ تفتیشی حکام اور پبلک پراسیکیوشن حادثے کی مجرمانہ تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس دوران مریضہ کے اہل خانہ اور نرسنگ ٹیم موجود تھی۔
ڈاکٹر خالد عبدالغفار نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ تحقیقات اس بات کا تعین کریں گی کہ لفٹ کی حرکت کی وجہ تکنیکی تھی یا انسانی غلطی تھی۔
انہوں نے ہسپتالوں کی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ لفٹوں اور ہسپتال کی تمام سہولیات کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ آئندہ اس طرح کے کسی بھی حادثے کا سدباب کیا جا سکے۔