اعلیٰ ترین بھارتی عدالت کا کام کی جگہ کی حفاظت کے لیے ڈاکٹروں کی ٹاسک فورس کا قیام
2012 کے واقعے کے بعد سخت قوانین نافذ ہوئے لیکن خواتین پھر بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں
بھارت میں ایک 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا گیا ہے جس کے بعد ملک کی سپریم کورٹ نے منگل کے روز ڈاکٹروں کی ایک قومی ٹاسک فورس کے قیام کا حکم دیا ہے کہ وہ اپنے کام کی جگہ پر حفاظت کے بارے میں سفارشات پیش کرے۔
عدالت نے وفاقی پولیس سے کہا کہ وہ نو اگست کو مشرقی شہر کولکتہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں زیرِ تربیت ڈاکٹر کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں جمعرات کو رپورٹ پیش کرے۔
ملک بھر میں ڈاکٹروں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور جرم کے بعد غیر ہنگامی مریضوں کو دیکھنے سے انکار کر دیا ہے جو کام کی ایک محفوظ جگہ اور جرم کے خلاف فوری تحقیقات کا مطالبہ کرنے کے لیے ان کی کارروائی کے حصہ ہے۔
ایک پولیس رضاکار کو گرفتار کر کے اس پر جرم کا الزام لگایا گیا ہے۔ خواتین کارکنان کہتی ہیں کہ واقعے نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ بھارت میں خواتین کس طرح جنسی تشدد کا شکار ہو رہی ہیں حالانکہ 2012 میں نئی دہلی میں چلتی بس میں 23 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل کے بعد سخت قوانین نافذ کیے گئے۔