برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس امر سے اتفاق کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا پھیلاؤ خطے میں کسی کے بھی حق میں نہیں ہو سکتا ہے۔ اس لیے عدم کشیدگی ہی سب کے فائدے میں ہو سکتی ہے۔ دونوں رہنما منگل کے روز فون پر بات چیت کر رہے تھے۔
برطانیہ اور فرانس کے وزرائے خارجہ رواں ہفتے کے دوران اسرائیل کا دورہ کیا ہے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے سفارتی مشن پر تھے اور مبینہ طور پر اسرائیل کو اس سلسلے میں سمجھانے بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسی دوران امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔ انٹونی بلنکن کا یہ سات اکتوبر کے بعد مسلسل نواں دورہ تھا۔ وہ اب تک نو بار اسرائیل اور خطے کے دوسرے ملکوں دورہ کر کے وہاں کی قیادت سے ملاقاتیں کرتے رہے ہیں۔ یہ ایک ریکارڈ ہے۔س
بلنکن کے دورے کے اختتام کے ساتھ ہی برطانیہ کے وزیر اعظم نے نیتن یاہو سے فون پر بات کی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر کے دفتر نے اس بارے میں بتایا ہے کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے حوالے سے غلط اندازے تمام فریقوں کے لیے بھاری قیمت کا سبب بن سکتے ہیں
کیر سٹارمر نے غزہ سے اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں ملنے پر اپنے ہم منصب کے ساتھ فون پر اظہار تعزیت بھی کیا ہے۔ اسرائیل نے اطلاع دی تھی کہ اس کی فوج کو غزہ سے چھ یرغمالیوں کی لاشیں ملی ہیں۔