مشروبات کی بین الاقوامی کمپنی 'نیسلے' کے شیئرز کی قیمتیں گر گئیں
سات اکتوبر کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر بعض مصنوعات اور کھانے پینے کی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم میں بہت ساری کمپنیوں کے کاروبار متاثر ہوئے اور کئی کے حصص کی قیمتیں گر گئیں۔ جمعہ کے روز اسی ماحول میں مشروبات کی بین الاقوامی کمپنی 'نیسلے' کو ایک دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے جب اس کے حصص میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے ۔
کمپنی کی طرف سے اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کے چیف ایگزیکٹو مارک شنڈر اچانک کمپنی چھوڑ کر چلے گئے۔ جس کے بعد کمپنی کے مطابق اس کے بزنس پر برا اثر آیا ہے۔
خیال رہے 'نیسلے' سوئس فوڈ گروپ سے متعلق کمپنی ہے۔ جس نے جمعرات کی شام اعلان کیا تھا کہ اس کے سربراہ یکم ستمبر سے کمپنی کو چھوڑ رہے ہیں۔
وہ تقریباً 8 سال تک کمپنی کے سربراہ رہے۔ اب ان کی جگہ کمپنی کے لاطینی امریکہ میں موجود سربراہ لارنٹ فریکس کمپنی کی کمان سنبھالیں گے ۔
معلوم ہوا ہے کہ کمپنی کے شیئرز میں تازہ ترین کمی 3 فیصد کی ہے۔
کمپنی کے چیئرمین پال بلکے نے کمپنی کے بڑے انویسٹرز سے کانفرنس کال پر بات کرتے ہوئے کہا 'کمپنی میں بہتری لانے کے لیے یہ تبدیلی ضروری تھی۔ اگرچہ آپ میں سے کچھ لوگ اس تبدیلی پر حیران ہوئے ہوں گے۔ '
کمپنی چیئرمین نے کہا 'کمپنی کو فعال بنانے کے لیے مختلف خصوصیات کی ضرورت ہے۔ '
مارک شنڈر نے اس موقع پر کہا ' میرے لیے یہ بڑا اچھا موقع تھا کہ میں نے کمپنی میں 2017 سے کام کیا ہے۔ میرے لیے اس کمپنی کو چھوڑنا آسان نہیں تھا۔ میں نے جب کمپنی جوائن کی تھی تو پوری طاقت اور اعتماد کے ساتھ کام کا آغاز کیا تھا۔ '
واضح رہے کمپنی پچھلے کچھ عرصے سے بہت سی ایسی خبروں کا موضوع رہی ہے جس میں کمپنی کی شہرت پر اثر آیا ہے۔ تاہم کمپنی سربراہ کا کہنا ہے کہ کمپنی کی طرف سے فروخت کیا جانے والا پینے کا پانی آج بھی صاف اور بہترین ہے۔