ترکیہ میں سرکاری حکام نے اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ دارالحکومت انقرہ میں چار افراد کو منکی پاکس سے متاثر ہونے کے شبہے میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
گمراہ کن خبروں کی روک تھام سے متعلق سرکاری مرکز نے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈٰیا میں زیر گردش اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
مرکز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "انقرہ کے کسی طبی مرکز میں منکی پاکس سے متاثرہ وہنے کے سبہے میں کسی شخص کو قرنطینہ میں نہیں رکھا گیا ہے"۔
ترکیہ میں میڈیکل ایسوسی ایشن کے سکریٹری جنرل اوندر اوکائی کا کہنا ہے کہ "ابھی تک ایسی کوئی معلومات نہیں جن سے یہ اشارہ ملے کہ ترکیہ میں منکی پاکس پھیل رہا ہے"۔
اوکائی نے باور کرایا کہ اس سلسلے میں ترکی کی وزارت صحت نے ضروری احتیاطی اقدامات کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ "ہم صورت حال کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم منکی پاکس کے حوالے سے حاصل ہونے والی تمام معلومات ترکی میں لوگوں کے سامنے شفافیت کے ساتھ پیش کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے"۔
رواں سال 14 اگست کو عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس وائرس کو "بین الاقوامی اہمیت کی حامل ایک طبی ہنگامی حالت" قرار دیا تھا۔
اسی طرح افریقی یونین کے زیر انتظام طبی ایسوسی ایشن براعظم افریقا میں منکی پاکس کی بیماری پھیلنے کے سبب 13 اگست کو طبی ہنگامی حالت کا اعلان کر چکی ہے۔
منکی پاکس ایک نایاب متعدی بیماری ہے جو وسطی اور مغربی افریقا کے دور دراز علاقوں میں پھیل رہی ہے۔ اس کی علامات میں متلی، بخار، جلد پر دانے، کھجلی اور پٹھوں میں درد شامل ہیں۔