جرمنی کی جانب سے گزشتہ روز 28 افغان باشندوں کو افغانستان ڈی پورٹ کرنے کے حیران کن فیصلے کے بعد جرمن حکومت کی جانب سے طالبان کی عملداری کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود نئی پیش رفت ہوئی ہے۔
سفارتی ذرائع نے العربیہ / الحدث کو ہفتے کے روز بتایا ہے کہ جرمن وزارت خارجہ نے برلن میں افغان سفارت خانے اور بون میں قونصل خانے پر طالبان سے معاملات طے کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یہ پیش رفت یورپ میں کچھ سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے غیر قانونی ہونے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔
صرف دو آپشنز
ذرائع نے مزید کہا کہ جرمن حکومت نے سابقہ افغان حکومت کی نمائندگی کرنے والے سفارت کاروں کو دو آپشنز پیش کیے ہیں کہ یا تو طالبان کے ساتھ سیاسی معاملات کی بجائے قونصلر معاملات طے کیے جائیں یا پھر سفارت خانہ اور دو قونصل خانے میں سے ایک کو بند کر دیا جائے۔
جرمن حکام نے افغان سفارت کاروں کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے لیے اگلے ہفتے کے آخر تک کی ڈیڈ لائن بھی مقرر کر دی ہے۔ سولنگن کے واقعات کے بعد تارکین وطن کے معاملے میں جرمنی کی نرمی پر وسیع تنقید کی گئی تھی جس کے بعد جرمن حکومت افغان مہاجرین کو کابل بھیجنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب سفارت کاروں نے ان دونوں آپشنز کو مسترد کر دیا۔ ایک ذریعے نے العربیہ کو بتایا ہے کہ افغان سفارت کاروں نے گزشتہ ہفتے کے آغاز میں ایک میٹنگ کے دوران جرمن حکام کو طالبان حکومت کے ساتھ بات چیت سے صاف انکار کرنے کے بارے میں مطلع کیا تھا۔
انہوں نے جرمن حکام کو بتایا کہ اگر یہ دباؤ برقرار رہتا ہے تو وہ سفارتخانہ اور قونصل خانوں کو بند کرنے اور چابیاں جرمن وزارت خارجہ کے حوالے کرنے پر مجبور ہوں گے۔
ناروے کی وزارت خارجہ بھی
ایک افغان سفارت کار کے مطابق ناروے کی وزارت خارجہ نے اپنے ہاں موجود افغان سفارت خانے پر طالبان سے نمٹنے کے لیے دباؤ بڑھایا ہے۔ وزارت خارجہ نے زور دیا ہے کہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کی سرزمین پر موجود افغان مہاجرین کو ان کے پاسپورٹ یا دیگر لین دین سے متعلق کسی قسم کے قانونی مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔
دریں اثنا افغان سفارتی اور قونصلر مشن کی کوآرڈینیٹنگ کونسل، جس میں گزشتہ حکومت سے وابستہ افغان سفیر اور قونصلر شامل ہیں، نے بعض یورپی ملکوں کے غیر اعلانیہ دباؤ کے جواب میں افغان سفارت خانوں میں کسی قسم کی تبدیلی کے خلاف خبردار کیا ہے۔
افغان سفیروں نے اپنے میزبان ممالک کو طالبان حکومت کے "ناجائز" مطالبات پر کسی قسم کی رعایت دینے کے خلاف بھی خبردار کیا۔ طالبان حکومت کی وزارت خارجہ نے اس سال جولائی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ اس نے یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں کچھ سفارتی مشنوں کو احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر مسترد کر دیا ہے۔
یہ لیکس برلن کی جانب سے قطر کے راستے طالبان حکومت کے ساتھ خفیہ بالواسطہ بات چیت کے بعد کل اچانک 28 افغان باشندوں کو کابل ڈی پورٹ کرنے کے بعد سامنے آئی ہیں۔