منی پور میں بھارتی باغیوں کا مہلک ڈرون حملہ

ہندو میٹی اور عیسائی کوکی برادریوں کے درمیان دیرینہ کشمکش میں اب تک 200 ہلاکتیں ہو چکی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت کی ریاست منی پور میں باغیوں نے سکیورٹی فورسز پر ایک مہلک حملہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈرون استعمال کرتے ہوئے دھماکہ خیز مواد گرایا جسے پولیس نے شورش زدہ شمال مشرقی علاقے میں تشدد میں "نمایاں اضافہ" قرار دیا ہے۔

اتوار کو ایک 31 سالہ خاتون ہلاک اور چھ افراد زخمی ہو گئے تھے جس کے بارے میں پولیس نے کہا کہ یہ باغیوں کا "بے مثال حملہ" تھا جنہوں نے راکٹ سے چلنے والے دستی بموں کے سر گرانے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا۔

منی پور میں مئی 2023 میں ہندو اکثریتی میٹی برادری اور بنیادی طور پر عیسائی کوکی برادری کے درمیان لڑائی شروع ہوئی۔ یہ ایک نسلی تنازعہ ہے جس کے اب تک کم از کم 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حریف ملیشیا نے ریاست کے ان حصوں میں ناکہ بندی کر رکھی ہے جن کی سرحدیں جنگ زدہ میانمار سے ملتی ہیں۔

دونوں گروہوں کے درمیان دیرینہ تناؤ کی بنیادی وجہ زمین اور سرکاری ملازمتوں کے لیے مقابلہ ہے۔ اس حوالے سے حقوق کارکناں مقامی رہنماؤں پر سیاسی فائدے کے لیے نسلی تقسیم کو ہوا دینے کا الزام لگاتے ہیں۔

منی پور پولیس نے اتوار کو ایک بیان میں کہا، "جبکہ ڈرون بم عام طور پر عام جنگ میں استعمال ہوتے رہے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف دھماکہ خیز مواد کے استعمال کے لیے ڈرون کی یہ حالیہ تعیناتی کشیدگی میں ایک اہم اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔"

بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاستی دارالحکومت امپھال کے باہر حملہ "مبینہ کوکی" باغیوں نے کیا تھا۔

ہلاک شدہ خاتون کی آٹھ سالہ بیٹی کے علاوہ زخمیوں میں تین شہری اور دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

پولیس نے کہا، "ممکنہ طور پر تکنیکی مہارت اور مدد کے حامل اعلیٰ تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کی اس تصادم میں شمولیت کو رد نہیں کیا جا سکتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں