بھارت : نوکری کے لیے دوڑ دوڑ کر مرچکے بھارتیوں کی موت بارے تحقیقات شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بھارت آباد اور رقبے کے لحاظ دنیا کے بڑے ملکوں میں شامل ہے۔ اپنے آس پاس کے ملکوں کے مقابلے میں اسکی معیشت بھی بڑی ہے۔ مگر اس کے ہاں بے روز گاری اور عام آدمی کی غربت سے مرنے کا تناسب کیا ہے تو اس کی اونچائی بھی ہمالہ کی طرح ہے۔

اسی لیے بھارت نے تعلیم اور میرٹ پر آنے والوں کو نوکریوں سے دور رکھنے کے لیے بنگلہ دیش کی حسینہ واجد جیسا کوٹہ سسٹم تو ایجاد نہیں کیا لیکن سرکاری روز گار کا حصول عام آدمی کے لیے ایسے مشکل بنا دیا ہے کہ نوکری کے لیے لڑتا لڑتا ہی نہیں بھاگتا بھاگتا بھی مرجائے مگر ذمہ داری مودی سرکاری پر نہ آئے۔

ایسی ہی ایک مثال بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ سے سامنے آئی ہے کہ محض583 اسامیوں کے لیے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں پانچ لاکھ درخواست گزار اور بے روز گار قطاروں میں لگ گئے۔

لیکن حکومت نے ایکسائز کانسٹیبلز کی اس ملازمت کے لیے دس کلو میٹر کی دور کو جسمانی طبی معائنے کے حصے کے طور پر شامل کر دیا ۔ تاکہ دوڑتے رہو اور دوڑتے دوڑتے خود ہی روزگار کی اس دوڑ سے باہر ہو جاؤ اور مودی سرکاری کے خلاف کوئی بری بات کہنے کے بجائے خود کو کوستے رہو اور یا پھر کوسنے سے پہلے ہی مرجاو۔

جیسا اس معاملے میں ہوا کہ 10 کلو میٹر کی اس دوڑ دوڑتے دوڑتے 12 بے روزگار زندگی دوڑ ہار گئے۔ البتہ مودی سرکاری جیت گئی کہ اس پر ایسا کوئی الزام نہیں لگا کہ اس نے لوگوں کو میرٹ پر نوکری دینے سے انکار کیا یا کوئی حسینہ برانڈ قسم کو کوٹہ سسٹم مسلط کر دیا۔

اہم بات ہے کہ پاکستان میں تو عام پولیس کے لیے بھی پولیس میں بھرتی ہونےوالے والوں کو تقریبا دو کلومیٹر کی دور میں مقابلہ کرنا پڑتا ہے ، لیکن بھارت نے ایکسائز پولیس کی بھرتی کے لیے جان لیوا یعنی دس کلو میٹر کے دوڑ مقابلے کو شرط بنا دیا۔

سوشل میڈیا میں اس ظالمانہ روزگاری سکیم پر آوازیں اٹھیں تو حکومت نے ایک انکوائری کرانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ جھاڑ کھنڈ میں اب تحقیقات ہوں گی اور آسانی سے ہارٹ اٹیک ٹائپ نتیجہ نکل آئے گا۔

نتیجہ صاف ہے کہ روزگار اور مزدوری دے کر کمر توڑ دی جاتی ہے اور گدھا سمجھ لیا جاتا ہے اور اس سے پہلے معاملہ دل کے دورے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ بھارتی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے بھی اسی جانب اشارہ کیا ہے دوڑ کی وجہ سے درخواست گذاروں کا پہلے بلڈ پریشر کم ہو اور پھر انہیں ڈی ہائیڈریشن کا ایشو ہو گیا ، جو بعد ازاں دل کی دھڑکن روکنے کا سبب بن گیا۔

جھاڑ کھنڈ کے وزیر اعلیٰ اورنگ گپتا نے بھی دوڑ کے دوران 12 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں