"پریشان حال ہے، جانے کا وقت قریب ہے"، مصری عسکری ماہرین کا نیتن یاہو کے خطاب کا تجزیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

مصری عسکری مشیروں نے باور کرایا ہے کہ پیر کی شام اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا خطاب "ان کی کمزوری کی دلیل" ہے۔ نیتن یاہو نے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی فوج کو غزہ اور مصر کے بیچ سرحد پر "فلاڈلفیا" (صلاح الدین) راہ داری پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ فائر بندی کی بات چیت میں اس حوالے سے "کسی دباؤ" میں نہیں آئیں گے۔

عسکری اور تزویراتی امور کے مصری ماہر اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے مشیر میجر جنرل اسامہ محمود نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو نے 7 ماہ سے اسرائیلی عوام سے خطاب نہیں کیا تھا۔ پیر کی شام ان کا نمودار ہونا اسرائیل میں ورکرز یونین کی جانب سے عام ہڑتال کی کال کا نتیجہ ہے۔ اسامہ نے باور کرایا کہ نیتن یاہو کی پوزیشن بہت مشکل ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ معیشت کا خسارہ اور جنگ کی لاگت ہے جو 7 اکتوبر کو فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد تقریبا 76 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اسامہ کے مطابق نیتن یاہو اپنے خطاب میں کمزور، خوف زدہ اور پریشان نظر آئے۔ یقینا اسرائیلی وزیر اعظم اگر آج جنگ بندی پر آمادہ ہوتے ہیں تو وہ خسارے کے حامل ہوں گے کیوں کہ انھوں نے تین اہداف کے حصول کے لیے ریاست پر بھاری مالی بوجھ ڈالا جب کہ ان میں سے کوئی ہدف بھی پورا نہ ہوا۔ پہلا ہدف غلافِ غزہ کے علاقے کو محفوظ بنانا تھا وہ نہیں ہوا، دوسرا ہدف حماس کی عسکری قوت کو توڑنا تھا وہ بھی نہیں ہوا۔ تیسر ہدف قیدیوں کی رہائی تھا اس حوالے سے پہلی جنگ بندی میں نکلنے والے گروپ کے سوا کوئی بھی آزاد نہ ہو سکا۔ امریکی صدر جو بائیڈن یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم جنگ بندی یقینی بنانے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ادھر برطانوی وزیر اعظم نے اسرائیل جانے والے عسکری ایندھن کو روک دینے کا اعلان کیا ہے۔ یقینا امریکی صدارتی انتخابات قریب آنے سے واشنگٹن زیادہ شدت سے اسرائیل پر دباؤ ڈالے گا۔

نیتن یاہو پیر کی شام اپنی تقریر کے دوران

اسی سلسلے میں عسکری اور تزویراتی امور کے ماہر میجر جنرل ایمن عبدالمحسن نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ "نیتن یاہو کا خطاب سیاسی دیوالیے پن کا ثبوت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی اور عسکری مقاصد میں سے کچھ بھی ہاتھ نہ آنے کے بعد ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ورکرز یونین نے ان کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے ہیں اور وہ انھیں بقیہ قیدیوں کی زندگی کا ذمے دار ٹھہرا رہی ہے"۔ ایمن نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت کے اندر اختلافات موجود ہیں جن میں وزیر اعظم کا وزیر دفاع کے ساتھ اختلاف شدید تر ہے۔ یہاں تک کہ نیتن یاہو فوج کو براہ راست احکامات دے رہے ہیں۔ یہ عسکری طور پر نا قابل قبول بات ہے۔ اسی طرح نیتن یاہو امریکی صدر جو بائیڈن کا بھروسا بھی کھو چکے ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے نتین یاہو پر تنقید کے بعد وہ اس چیز کو واضح طور پر محسوس کر رہے ہیں۔ میجر جنرل اسامہ عبدالمحسن کے مطابق ان تمام مشکلات کے باوجود مصر نے غزہ میں فائر بندی اور جنگ بندی تک پہنچنے کے کوششیں جاری رکھی ہیں۔ مصر نے سات اکتوبر کے بعد سے بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی عوام کو انسانی اور طبی امداد فراہم کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی حکام نے غزہ سے چھ قیدیوں کی لاشیں اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔ اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نے ٹیلی وژن پر ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "جنگ کے مقاصد کے حصول کا راستہ فلاڈلفیا راہ داری سے گزر کر جاتا ہے ... اس راہ داری پر کنٹرول یہ ضمانت دے گا کہ مغویوں کو غزہ سے باہر اسمگل نہیں کیا جا سکتا"۔

نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ "ہم نے اس جنگ میں اپنے لیے چار اہداف رکھے ہیں۔ ان میں حماس کو تباہ کرنا، تمام مغویوں کو واپس لانا، اس بات کو یقینی بنانا کہ غزہ آئندہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں بنے گا اور شمالی اسرائیل کی آبادی کی بحفاظت اپنے گھروں کو واپسی شامل ہے۔ ان میں سے تین مقاصد ایک ہی راستے سے پورے ہوتے ہیں اور وہ فلاڈلفیا کی راہ داری ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں