اسرائیلی قیدیوں کی نگرانی پرمامور محافظوں کے لیے حماس کی نئی ہدایات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تحریک نے اسرائیلی قیدیوں کی نگرانی پرمامور محافظوں کو نئی ہدایات جاری کی ہیں کہ اگر اسرائیلی فورسز حراستی مقامات تک پہنچیں تو ان سے نمٹنے کے لیے اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ یہ ہدایات چھ قیدیوں کی حالیہ ہلاک کے بعد جاری کی گئی ہیں تاہم ان ہدایات کی مزید نوعیت واضح نہیں ہوسکی۔

ابو عبیدہ نے ٹیلی گرام ایپلی کیشن کے ذریعے زور دیا کہ "(اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن) نیتن یاہو کی جانب سے قیدیوں کو معاہدے کے بجائے فوجی دباؤ کے ذریعے آزاد کرنے پر اصرار کا مطلب ہوگا قیدی اپنے خاندانوں کے پاس زندہ واپس جانے کے بجائے ان کے تابو جائیں گے‘‘۔

انہوں نے نیتن یاہو اور فوج کو غزہ کی پٹی میں حراست میں لیے گئے قیدیوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے "قیدیوں کے تبادلے کے کسی معاہدے میں جان بوجھ کر خلل ڈالنے کا ذمہ دار قرار دیا"۔ ابو عبیدہ نے اسرائیلی حکام پر غزہ پر بمباری کے دوران جان بوجھ کر درجنوں قیدیوں کو ہلاک کرنے کا الزام بھی لگایا۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا تھا کہ حماس کے جنگجوؤں نے غزہ کی پٹی میں ایک سرنگ سے برآمد ہونے والے چھ قیدیوں کو "سر کے پچھلے حصے میں گولی مار کرقتل کردیا تھا"۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ "ان قاتلوں نے ہمارے چھ قیدیوں کو سر کے پچھلے حصے میں گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا"۔

حکومت مخالف مظاہروں کے دوسرے دن پیر کی شام جب ہزاروں مظاہرین تل ابیب میں جمع ہوئے تو وزیر اعظم نے چھ قیدیوں کو نہ چھڑانے کے لیے "معافی" مانگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم قریب تھے لیکن حماس کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں