غزہ میں جنگ بندی معاہدہ ناگزیر ضرورت بن چکا ہے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کے لیے امریکہ سمیت دیگر ثالث ممالک کوششیں کررہے ہیں، تاہم کئی ماہ کی مسلسل کوششوں کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ایسے میں امریکہ نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ غزہ میں معاہدہ ضروری ہے۔

"معاہدہ ناگزیرہے"

چند روز قبل 6 دیگر قیدیوں کی لاشیں ملنے کے بعد منگل کو امریکہ نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے تیزی اور لچک دکھانے پر زور دیا تھا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے صحافیوں کو بتایا کہ غزہ میں اب بھی درجنوں قیدی ہیں جنہیں واپس کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کا وقت آگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے آنے والے دنوں میں علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے غزہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تھی۔ انہوں بے زور دیا کہ حماس اور اسرائیل کو معاہدے کے لیے لچک دکھانا چاہیے۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب وائٹ ہاؤس نے منگل کو کہاکہ چھ قیدیوں کا قتل جن کی لاشیں اسرائیلی فورسز نے گزشتہ اتوار کو برآمد کی تھیں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے اور باقی قیدیوں کو رہا کرنے کی فوری ضرورت کا تقاضا کرتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ یہ واضح ہے کہ ہفتے کے آخر میں جو کچھ ہوا اس سے اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس معاملے کو جلد از جلد پورا کرنا کتنا ضروری ہے، ان کی ہلاکتوں کی ذمہ داری حماس پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے ’العربیہ‘ کو دیے گئے بیانات میں مزید کہا کہ امریکی بیانات ایماندارانہ ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ دنیا غزہ کے حوالے سے معاہدے کے بہت قریب ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مذاکرات معاہدے کے حوالے سے خلا کو کم کرنے میں کامیاب رہے اور اسے مکمل کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

چھ قیدیوں کی لاشیں

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اسے جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح کے علاقے میں ایک سرنگ سے چھ زیر حراست افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ انہیں فوجیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی "قریب گولیاں مار کر قتل" کردیا گیا تھا۔

دوسری طرف حماس نے قیدیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا۔حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا فوجی دباؤ کے ذریعے قیدیوں کو آزاد کرنے پر اصرار ہے۔قیدیوں کو کسی معاہدے کے بغیر طاقت سے چھڑانے کا مطلب قیدیوں کے تابوت واپس کرنا ہوگا۔

انہوں نے قیدیوں کے محافظوں کو نئی ہدایات جاری کرنے کی بھی تصدیق کی اور کہا کہ محافظوں کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج ان کے حراستی مقام تک پہنچتی ہے تو انہیں کیا کرنا ہے۔

اتوار کے بعد سے اسرائیل میں بڑے پیمانےپراحتجاجی مظاہروں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ سوموار کو اسرائیل میں ملک گیر ہڑتال بھی کی گئی۔ اس سب کامقصد قیدیوں کی رہائی کے معاہدےکے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔

دریں اثنا امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ نیتن یاہو غزہ کی پٹی سے قیدیوں کی واپسی کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے خاطر خواہ کوششیں نہیں کر رہے ہیں۔

تاہم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو انجام دینے کے لیے اندرونی اور بیرونی دباؤ میں اضافے کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم وہی کریں گے جو اسرائیل کے مفاد میں ہوگا۔ غزہ سے فوج واپس بلانے کا کوئی معاہدہ نہیں کرسکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں