قاہرہ یونیورسٹی میں میڈیکل کے طالب علم نے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

مصر کی قاہرہ یونیورسٹی میں ایک طالب علم کی خود کشی سے موت نے ہر طرف خوف اور رنج وغم کی لہر دوڑا دی۔

تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی کے ایک ہال کی چھت سے طالب علم کی پھندے سے لٹکی لاش برآمد کی۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے جیزا سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کی سکیورٹی سروسز کو مطلع کیا جس کے بعد حکام کے جائے وقوعہ پر جانے کے بعد معلوم ہوا کہ طالب علم عمر ایم جس کی عمر 23 سال تھی وہ یونیورسٹی میں میڈیکل کے شعبے میں تیسرے سال کا طالب علم تھا۔ معلوم ہوا کہ اس کی لاش کو اس کے کمرے کے اندر آگ کے پائپ سے لٹکایا گیا تھا۔

سکیورٹی فورسز نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ضروری قانونی اقدامات کیے ہیں اور عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کرنے کے علاوہ نگرانی کرنے والے کیمروں کا ریکارڈ بھی لے لیا ہے۔

اس کے علاوہ نوجوان کے ایک دوست نے تصدیق کی کہ وہ پڑھائی کے دباؤ کی وجہ سے بری نفسیاتی کیفیت کا شکار تھا اور اس نے حالیہ عرصے میں تنہا رہنا شروع کردیا تھا۔

پبلک پراسیکیوشن نے لاش کو ہسپتال کے مردہ خانے میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس اس کی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا طالب علم نے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں