لندن کے میئر صادق خان نے اسرائیل کی غزہ جنگ کے بعد عالمی سطح کی طرح لندن میں بھی اسرائیلیوں کے خلاف پھیل جانے والے غم و غصے کے تدارک کے لیے نئی بسوں پر مبنی ٹرانسپورٹ کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ نئی بسیں لندن شہر کے اس روٹ پر چلآئی گئی ہیں جو سٹیمفورڈ ہل اور گولڈرز گرین کے درمیان واقع ہے۔ یہ علاقے در اصل لندن میں یہودی کی زیادہ آبادی رکھنے والے علاقے ہیں اور اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینی بچوں اور عورتوں کی ہزاروں کی تعداد میں بلا امتیاز بمباری سے ہلاکتوں کے خلاف رد عمل انہی علاقوں میں ژیادہ سامنے آ رہا ہے۔
میئر لندن صادق خان کے بقول 'یہود دشمنی' پر مبنی واقعات جن کی تعداد سات اکتوبر 2023 کے بعد بہت بڑھ گئی ہے۔ کہ یہودی آبادی کے لوگ عام طور پر یہود مخالف واقعات کی شکایت اسی علاقے میں بس سٹاپ بس تبدیل کرنے کے وقت غم و غصے یا خوف کا شکار ہوتے ہیں۔
اس لیے اس روٹ پر ایسی بس سروس شروع کر دی گئی ہے جو یہودہوں اور اسرائیلیوں کو بس تبدیل کرنے سے بچنے موقع دے اور سٹیمفورڈ اور گولڈرز گرین کے درمیان بس تبدیلی کے وقت ناخوشگوار واقعات سے بچ جائیں۔ گویا وہ عام لوگوں کے سامنے ہی نہ آئیں جو انہیں غزہ میں بچوں اور عورتوں کے قتل عام کی طرف متوجہ کر دیتے ہیں۔
یہودی جنہیں اسرائیلی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے دنیا میں جگہ جگہ رد عمل کا سامنا رہتا ہے ۔ ان کے تحفظ کے لیے قائم ایک ادارے کمیونٹی سیکورٹی ٹرسٹ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے ماہ جون کے دوران یہود دشمنی کے 1978 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ یہ واقعات پچھلے سال کے اسی دورانیے کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔ سال 2023 کے دوران جنوری سے جون کے درمیان ان واقعات کی تعداد 964 رہی تھی۔
یہودہوں کے بڑی عمر کے لوگ جو لندن میں رہتے ہیں ان کے بقول یہ وہسی ہی صورت حال ہے جیسی یہودیوں کو 1930 کے لگ بھگ اس وقت جرمنی میں بھگتنا پڑ رہی تھی۔
خیال رہے یہ وہ زمانہ تھا جب 1917 کے اعلان بالفو ر کے بعد یہودی برطانوی تعاون سے فلسطینی سرزمین میں قابض ہونے کی شروعات کر رہے تھے اور جرمنی میں جنگ عظیم اور دوم کے درمیان کا دور تھا۔ اب اسی انداز سے طاقت استعمال کر کے فلسطین میں اسرائیل اپنے قبضے کو پکا کر نے کی کوششوں لگا ہے اور اب تک صرف غزہ میں اکتالیس ہزار کے لگ بھگ فلسطینیوں کا قتل کر چکا ہے۔
غزہ میں اسرائیلی جنگ اب بارہویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور اسرائیلی فوج نے سب سے بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی قتل کی ہے۔ اس پر امریکہ و یورپ میں ہر جگہ رد عمل سخت محسوس کیا جا رہا ہے اور یہودی ہر جگہ خوف کا شکار ہوتے ہیں۔
صادق خان کے بقول اس صورت حال سے بچنے کے لیے نئی بسیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اگرجہ یہودی کمینٹی یہ مطالبہ سولہ سال پہلے سے کر رہی تھی۔ کہ انہیں لندن میں سٹیمفورڈ سے گولڈرز گرین کے درمیان سفر کے لیے بس تبدیل کرنے کی زحمت سے بچایا جائے کہ اس دوران ان کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ یہودی کمیونٹی کے لوگوں نے اس نئی بس سروس کا خیر مقدم کیا ہے۔
ایک یہودی خاتون نے جمعہ کے روز یہ بس سروس استعمال کی ہے ، اس بارے میں کہآ 'یہ بہت بہتر اور اسان ہے۔' اس کے بقول اسے پہلے بھی کبھی کسی مسئلے کا سامنا نہیں ہوا تھا تاہم یہود مخالفت میں بڑھاوا تو ہو رہا ہے۔میں رات کے وقت باہر نکلنے سے گریز کرتی ہوں۔