بنگلہ دیش نے بھارت سے برطرف وزیرِ اعظم حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر دیا

حسینہ کی واپسی اور ان کے خلاف قتلِ عام کا مقدمہ چلانے کے لیے عبوری حکومت پر دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

بنگلہ دیش کے چیف پراسیکیوٹر نے معزول رہنما شیخ حسینہ پر "قتل عام" کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگی جرائم کی عدالت ہمسایہ ملک بھارت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

بنگلہ دیش میں طلباء کی زیرِ قیادت کئی ہفتوں کے احتجاج نے گذشتہ ماہ وسیع پیمانے کے مظاہروں کی شکل اختیار کر لی تھی جس پر حسینہ نے وزیرِ اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور پانچ اگست کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے فرار ہو کر اپنے پرانے اتحادی ملک بھارت چلی گئیں جس سے ان کے 15 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔

بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) کے چیف پراسیکیوٹر محمد تاج الاسلام نے اتوار کو صحافیوں کو بتایا، "چونکہ مرکزی مجرم ملک سے فرار ہو چکی ہیں تو ہم انہیں واپس لانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کریں گے۔"

آئی سی ٹی 2010 میں حسینہ نے 1971 کی جنگ کے دوران ہونے والے مظالم کی تحقیقات کے لیے قائم کیا تھا۔

حسینہ کی حکومت پر وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے جس میں ان کے سیاسی مخالفین کی بڑے پیمانے پر حراست اور ماورائے عدالت قتل شامل ہیں۔

اسلام نے مزید کہا، "بنگلہ دیش کا بھارت کے ساتھ مجرمان کی حوالگی کا معاہدہ ہے جس پر 2013 میں دستخط کیے گئے تھے جب شیخ حسینہ کی حکومت تھی۔ چونکہ انہیں بنگلہ دیش میں قتلِ عام کی مرکزی ملزم بنایا گیا ہے تو ہم انہیں قانونی طور پر بنگلہ دیش واپس لانے کی کوشش کریں گے کہ مقدمے کا سامنا کریں۔"

76 سالہ حسینہ کو بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے عوام میں نہیں دیکھا گیا اور سرکاری طور پر ان کا آخری معلوم ٹھکانہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے قریب ایک فوجی ایئربیس ہے۔ ہندوستان میں ان کی موجودگی نے بنگلہ دیش کو مشتعل کر رکھا ہے۔

ڈھاکہ نے ان کا سفارتی پاسپورٹ منسوخ کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مجرمان کی حوالگی کا ایک دو طرفہ معاہدہ ہے جو انہیں مجرمانہ مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے واپس آنے کی اجازت دے گا۔

تاہم معاہدے کی ایک شق کہتی ہے کہ اگر جرم "سیاسی نوعیت" کا ہو تو حوالگی سے انکار کیا جا سکتا ہے۔

ملک کے نوبل امن انعام یافتہ معیشت دان اور بغاوت کے بعد اقتدار سنبھالنے والے عبوری رہنما محمد یونس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ حسینہ کو ہندوستان میں جلاوطنی کے دوران "خاموش" رہنا چاہیے جب تک انہیں مقدمے کے لیے وطن واپس نہ لایا جائے۔

84 سالہ یونس نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نیوز ایجنسی کو بتایا، "اگر ہندوستان انہیں اس وقت تک رکھنا چاہتا ہے جب تک بنگلہ دیش ان کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے تو شرط یہ ہو گی کہ وہ خاموش رہیں۔"

ان کی حکومت پر عوامی دباؤ ہے کہ وہ ان کی حوالگی کا مطالبہ کرے اور کئی ہفتوں کی بدامنی کے دوران سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکت پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے جس کے باعث بالآخر ان کی حکومت کا تختہ الٹ گیا۔

اقوامِ متحدہ کی ایک ابتدائی رپورٹ کے مطابق حسینہ کی معزولی کے بعد کے ہفتوں میں 600 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تعداد کا اندازہ "ممکنہ طور پر کم" تھا۔

بنگلہ دیش نے گذشتہ ماہ ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں حسینہ واجد کے دور میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات شروع کی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں